اسرائیل غزہ میں پانی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے: عالمی تنظیم کی رپورٹ

طبی امداد کی عالمی تنظیم ‘ڈاکٹرز وداؤٹ بارڈرز’ (ایم ایس ایف) نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں اسرائیل پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی حکام غزہ میں فلسطینیوں کو زندگی کے لیے ناگزیر “پانی” سے دانستہ طور پر محروم کر رہے ہیں، جو کہ ‘اجتماعی سزا’ کے مترادف ہے۔

واٹر ایز اے ویپن کےعنوان سے جاری کردہ رپورٹ میں ایم ایس ایف نے کہا ہےکہ غزہ میں پانی کی مصنوعی قلت پیدا کرنا اسرائیلی نسل کشی کے منصوبے کا حصہ ہے۔

بنیادی ڈھانچے کی تباہی: اقوام متحدہ اور عالمی بینک کے ڈیٹا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اسرائیل نے غزہ کے 90 فیصد واٹر سپلائی اور نکاسی آب کے نظام کو تباہ یا ناکارہ کر دیا ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ پانی صاف کرنے والے پلانٹس، پمپس اور کیمیکلز لانے کی ایک تہائی درخواستیں اسرائیل نے مسترد کر دیں یا ان کا جواب ہی نہیں دیا۔

ایم ایس ایف کی ایمرجنسی منیجر کلیئر سان فیلیپو کا کہنا ہے کہ پانی کی قلت، شدید ہجوم اور تباہ حال طبی نظام مل کر بیماریوں کے پھیلاؤ کے لیے ایک خوفناک طوفان پیدا کر رہے ہیں۔

اسرائیلی وزارتِ دفاع کے ذیلی ادارے کوگیٹ نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے “بے بنیاد” قرار دیا ہے۔ اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہغزہ میں پانی کی فراہمی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مقررہ حد سے زیادہ ہے۔ترسیل میں تاخیر کی ذمہ دار خود تنظیمیں ہیں جو رجسٹریشن پروٹوکول پر عمل نہیں کرتیں۔اسرائیل نے ایم ایس ایف پر دہشت گردی سے منسلک افراد کو ملازمت دینے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

اکتوبر میں ہونے والے فائر بندی کے معاہدے کے باوجود غزہ میں تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔ ایم ایس ایف کے مطابق، ان کی ٹیمیں روزانہ 5.3 ملین لیٹر پانی فراہم کر رہی ہیں، لیکن اسرائیلی فوجی احکامات اور نقل مکانی کی وجہ سے لاکھوں ضرورت مندوں تک رسائی ناممکن ہوتی جا رہی ہے۔ تنظیم نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل پر پانی کی بحالی کے لیے دباؤ ڈالیں۔