موسمیاتی تبدیلی: ملک میں جنوری فروری اور مارچ میں گرمی کا 66 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا

محکمہ موسمیات نے جنوری تا مارچ 2026 کے موسمی اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں، جن کے مطابق ملک میں اس عرصے کے دوران بارشیں معمول سے کم جبکہ درجہ حرارت غیر معمولی حد تک زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق تین ماہ کے دوران ملک بھر میں اوسطاً 68.4 ملی میٹر بارش ہوئی، جو معمول سے 12 فیصد کم ہے۔ صوبائی سطح پر پنجاب میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی جہاں بارشیں 37 فیصد کم رہیں۔ اس کے علاوہ گلگت بلتستان میں 21 فیصد، آزاد جموں و کشمیر میں 16 فیصد اور خیبر پختونخوا میں 14 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

دوسری جانب سندھ میں بارشیں معمول سے 32 فیصد زیادہ رہیں جبکہ بلوچستان میں بارشیں تقریباً معمول کے قریب رہیں، جہاں 7 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

ماہانہ بنیاد پر دیکھا جائے تو مارچ 2026 میں ملک بھر میں بارشیں 24 فیصد زیادہ رہیں، خاص طور پر سندھ اور بلوچستان میں نمایاں اضافہ ہوا۔ اس کے برعکس فروری 2026 انتہائی خشک مہینہ ثابت ہوا، جس میں بارشوں میں 77 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ مہینہ گزشتہ کئی دہائیوں کے خشک ترین مہینوں میں شامل رہا۔ جنوری 2026 میں بارشیں 19 فیصد زیادہ ریکارڈ ہوئیں۔

درجہ حرارت کے حوالے سے صورتحال مزید تشویشناک رہی۔ جے ایف ایم سیزن میں ملک کا اوسط درجہ حرارت 16.7 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو معمول سے 1.7 ڈگری زیادہ ہے۔ یہ گزشتہ 66 سالوں کا بلند ترین درجہ حرارت ہے، جس نے 2018 کا ریکارڈ بھی برابر کر دیا۔

صوبائی سطح پر بھی تمام علاقوں میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہا۔ خیبر پختونخوا میں 2.2 ڈگری، آزاد کشمیر میں 2.1 ڈگری جبکہ گلگت بلتستان میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، اور یہ علاقے اپنے ریکارڈ کے مطابق گرم ترین سیزن میں شامل رہے۔

ماہرین کے مطابق بارشوں میں کمی اور درجہ حرارت میں اضافے کا یہ رجحان مستقبل میں پانی کی قلت، زرعی پیداوار میں کمی اور موسمیاتی خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔