بینچ سے اسٹار تک: حنین شاہ حیدرآباد کنگزمین کےہیرو

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں اس وقت سب کی توجہ ایک ابھرتے ہوئے فاسٹ بولر حنین شاہ پر مرکوز ہے۔ جنہوں نے ابتدائی میچز میں اپنی ٹیم حیدرآباد کنگزمین کی پلیئنگ الیون میں جگہ نہ ملنے کے باوجود شاندار واپسی کرتے ہوئے اپنی ٹیم کو فائنل کی دوڑ میں پہنچا دیا ہے۔

شاہ خاندان کے اس کم معروف رکن، جن کے بھائیوں میں مشہور فاسٹ بولر نسیم شاہ اور عبید شاہ بھی شامل ہیں، ابتدائی طور پر ٹیم کا حصہ نہیں تھے۔ تاہم بعد میں موقع ملنے پر انہوں نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے ٹیم کی قسمت بدل دی۔

حنین شاہ نے پچھلے چند میچز میں شاندار بولنگ کرتے ہوئے ٹورنامنٹ کے پانچویں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بولر بن گئے ہیں، جبکہ ان کی اکانومی اور اسٹرائیک ریٹ بھی ٹاپ بولرز میں بہترین قرار دی جا رہی ہے۔

حنین شاہ نے بتایا کہ انہوں نے پی ایس ایل سے کئی ماہ پہلے ہی تیاری شروع کر دی تھی اور ان کا ہدف تھا کہ جب بھی موقع ملے، بہترین کارکردگی دکھائیں۔ انہوں نے خاص طور پر یارکرز اور ٹارگٹ بولنگ پر سخت محنت کی، وہ دباؤ میں بھی اپنی بولنگ پلان کے مطابق رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔

حنین شاہ نے کہا کہ ٹی20 کرکٹ میں یارکرز زیادہ تر آخری اوورز میں استعمال کیے جاتے ہیں، لیکن وہ صورتحال کے مطابق پہلے بھی استعمال کرتے ہیں۔ اگر انہیں محسوس ہو کہ بیٹر تیار نہیں ہے تو وہ اچانک یارکر کروا کر وکٹ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔

انہوں نے سابق آسٹریلوی کرکٹر اور کوچ جیسن گلیسپی کی کوچنگ کو اپنی ترقی میں اہم قرار دیا۔ ان کے مطابق جیسن گلیسپی نے انہیں یہ سکھایا کہ ہر گیند سے پہلے واضح منصوبہ ہونا چاہیے اور بولر کو اپنے فیصلے پر 100 فیصد اعتماد کے ساتھ عمل کرنا چاہیے۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ بعض اوقات بڑے بیٹرز کے سامنے پلان کامیاب نہیں ہوتا، لیکن ایسے لمحات انہیں مزید سیکھنے کا موقع دیتے ہیں۔

حنین شاہ نے کہا کہ ان کے خاندان میں کرکٹ کے حوالے سے کوئی سخت مقابلہ نہیں، بلکہ سپورٹ کا ماحول ہے۔ان کے بڑے بھائی نسیم شاہ ان کے لیے رول ماڈل ہیں، جنہوں نے پورے خاندان کو کرکٹ کی طرف راغب کیا۔ خاندان میں مالی معاملات یا مقابلے کی کوئی بات نہیں ہوتی، اور سب ایک ساتھ رہتے ہیں۔