اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسلامی نظریاتی کونسل کے اختیارات کے حوالے سے ایک تاریخی اور اہم فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی کی جانب سے جاری کردہ اس فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ کونسل کسی فرد کے خلاف فوجداری مقدمات میں رائے دینے کا قانونی حق نہیں رکھتی۔
اپنے فیصلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ انفرادی مقدمات میں مداخلت کی ممانعت: عدالت نے قرار دیا کہ آئین کے آرٹیکل 229 اور 230 کے تحت اسلامی نظریاتی کونسل کا کام صرف صدر، گورنرز، قومی یا صوبائی اسمبلیوں کو قانونی رہنمائی فراہم کرنا ہے۔ اسے کسی فرد کے خلاف انفرادی سطح پر رائے دینے کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔
عدالت کے مطابق کسی شخص کی فوجداری ذمہ داری طے کرنا صرف عدالتوں کا کام ہے۔ کونسل کوئی فیکٹ فائنڈنگ مشن یا عدالتی فورم نہیں ہے کہ وہ کسی کے فعل کو جرم قرار دے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اگر کونسل کسی ملزم کے خلاف رائے دیتی ہے، تو یہ آئین کے آرٹیکل 10 اے کے تحت شہری کے منصفانہ ٹرائل کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے۔
دالت نے قرار دیا کہ سائبر کرائم ایجنسی کا کسی فرد کے بیان پر کونسل سے رائے مانگنا غیر قانونی عمل تھا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے معروف عالم دین انجینئر محمد علی مرزا کے خلاف اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے دی گئی رائے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے کالعدم قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے ان کی درخواست منظور کرتے ہوئے واضح کیا کہ کونسل اپنے موجودہ آئینی مینڈیٹ سے تجاوز نہیں کر سکتی۔جب تک آئین میں ترمیم نہ ہو، اسلامی نظریاتی کونسل کے پاس کسی فرد کے فعل کو جرم قرار دینے کا کوئی قانونی اختیار نہیں ہے۔


