نیپال اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازعہ ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے، جب نئی دہلی نے 2026 کے لیے کیلاش مانسروور یاترا کا اعلان کیا۔ اس اعلان کے بعد کھٹمنڈو نے سخت احتجاج کرتے ہوئے اسے اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
تنازعے کا مرکز لیپولیکھ درہ ہے، جو ایک اہم سرحدی مقام ہے جہاں بھارت، نیپال اور چین کی سرحدیں ملتی ہیں۔ یہ راستہ روایتی طور پر کیلاش مانسروور یاترا کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے، جو ہندوؤں کے مقدس مقامات میں شمار ہوتا ہے۔
نیپال کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ لیپولیکھ، کالاپانی اور لیمپیادھورا جیسے علاقے 1816 کے سگاؤلی معاہدے کے مطابق نیپال کا حصہ ہیں، اور بھارت کو وہاں کسی قسم کی سرگرمی، بشمول سڑک سازی یا یاترا، سے گریز کرنا چاہیے۔ دوسری جانب بھارت نے اس اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ یہ راستہ 1954 سے مسلسل استعمال ہو رہا ہے اور یہ کوئی نئی پیش رفت نہیں۔
بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ یکطرفہ طور پر سرحدی دعووں میں توسیع قابل قبول نہیں، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ نیپال کے ساتھ بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کے لیے تیار ہیں۔
یہ تنازعہ نیا نہیں۔ 2019 میں اس وقت کشیدگی بڑھی تھی جب بھارت نے ایک نیا سیاسی نقشہ جاری کیا جس میں کالاپانی کو اپنی ریاست اتراکھنڈ کا حصہ دکھایا گیا، جس پر نیپال نے شدید اعتراض کیا۔ اس کے علاوہ 1962 کی بھارت-چین جنگ کے بعد سے یہ علاقہ فوجی لحاظ سے بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔
نیپال کی موجودہ حکومت، جس کی قیادت بالندر شاہ کر رہے ہیں، ماضی میں بھی بھارت کے حوالے سے قوم پرستانہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات اگرچہ تاریخی اور قریبی رہے ہیں، لیکن حالیہ برسوں میں ان کے درمیان عدم اعتماد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، خاص طور پر 2015 کے بعد جب نیپال میں آئینی تنازعے کے دوران اقتصادی مشکلات پیدا ہوئیں۔
مجموعی طور پر لیپولیکھ کا معاملہ نہ صرف سرحدی تنازعہ ہے بلکہ اس نے دونوں ہمسایہ ممالک کے سفارتی تعلقات کو بھی ایک بار پھر آزمائش میں ڈال دیا ہے۔











