مشرق وسطی بدامنی کے بعد ایشیا کو شدید گرمی، خشک سالی اور سیلاب کا سامنا

ایشیا کو ایک اور بڑے ماحولیاتی اور معاشی چیلنج کا سامنا ہے، کیونکہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایک ممکنہ “سپر ایل نینو” خطے میں شدید گرمی، خشک سالی اور سیلاب کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ خطرہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطہ پہلے ہی مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث توانائی بحران سے دوچار ہے۔

ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن کے مطابق مئی سے جولائی کے درمیان ایل نینو کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، اور ابتدائی اشارے بتاتے ہیں کہ یہ غیر معمولی طور پر طاقتور ہو سکتا ہے۔ اگرچہ “سپر ایل نینو” کی اصطلاح سائنسی طور پر مستند نہیں، لیکن ماہرین اس کے ممکنہ شدید اثرات پر تشویش ظاہر کر رہے ہیں۔

ایل نینو ایک قدرتی موسمی مظہر ہے جو دنیا بھر میں ہوا کے دباؤ، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام کو متاثر کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں انڈونیشیا جیسے ممالک میں بارشیں کم ہو کر خشک سالی اور جنگلاتی آگ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جبکہ کچھ علاقوں میں شدید بارشیں اور سیلاب بھی آ سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق 1997-98 کا ایل نینو اب تک کا سب سے طاقتور واقعہ تھا، جس نے خاص طور پر انڈونیشیا میں تباہ کن آگ اور شدید خشک سالی کو جنم دیا۔ اسی طرز کے حالات دوبارہ پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ادھر توانائی کے شعبے پر بھی دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔ آبنائے ہرمز میں حالیہ کشیدگی اور رسد میں رکاوٹوں کے باعث پہلے ہی ایندھن کی قلت کا سامنا ہے۔ ایسے میں بڑھتی ہوئی گرمی بجلی کی طلب میں اضافہ کرے گی، جس سے توانائی کے نظام مزید دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خشک سالی سے پن بجلی پیدا کرنے والے ممالک، خصوصاً دریائے میکونگ کے خطے، نیپال اور ملائیشیا کے کچھ حصے، شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔ ماضی میں بھی شدید گرمی کے باعث چین کے صوبہ سیچوان میں پن بجلی کی پیداوار میں نمایاں کمی دیکھی گئی تھی۔

زرعی شعبہ بھی اس ممکنہ موسمی تبدیلی سے محفوظ نہیں۔ پہلے ہی کھاد اور ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے پریشان کسانوں کو یا تو خشک سالی یا سیلاب کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے فصلوں کی پیداوار کم اور خوراک کی قیمتیں بڑھنے کا خدشہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ابھی پوری طرح واضح نہیں، تاہم یہ طے ہے کہ شدید موسمی واقعات کی تعداد اور شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ممالک کو اپنی توانائی کے نظام کو متنوع اور ماحول دوست بنانے کی ضرورت ہے، تاکہ مستقبل کے جھٹکوں کا بہتر مقابلہ کیا جا سکے۔