امریکا اور خلیجی اتحادی ممالک نے عالمی تجارت کی اہم گزرگاہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی محفوظ آمد و رفت یقینی بنانے کے لیے اقوام متحدہ میں ایک قرارداد کا مسودہ تیار کر لیا ہے۔ جرمن خبر رساں ادارے کے مطابق اس قرارداد پر جلد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ووٹنگ متوقع ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے مطابق مجوزہ قرارداد میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ جہازوں پر حملے بند کرے، سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے کا سلسلہ روکے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے فیس عائد نہ کرے۔
اس قرارداد کی تیاری میں بحرین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور قطر نے حصہ لیا ہے، جس سے خطے میں بڑھتی ہوئی تشویش کا اندازہ ہوتا ہے۔
امریکا نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کے مقامات ظاہر کرے اور انہیں ہٹانے میں تعاون کرے، تاکہ عالمی تجارت کو درپیش خطرات کم کیے جا سکیں۔
قرارداد میں ایک انسانی ہمدردی کی راہداری قائم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے، تاکہ کشیدگی کے باوجود ضروری سامان کی ترسیل جاری رکھی جا سکے۔
رپورٹس کے مطابق اس قرارداد کے مسودے میں تبدیلیاں کی گئی ہیں تاکہ روس اور چین کی حمایت حاصل کی جا سکے، جو سلامتی کونسل میں اہم کردار رکھتے ہیں۔
مارکو روبیو نے ایران پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی کارروائیوں کے ذریعے عالمی معیشت کو یرغمال بنا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں کشیدگی عالمی تیل کی سپلائی اور تجارت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔


