گزشتہ چند برسوں میں سعودی عرب نے عالمی کھیلوں میں غیر معمولی سرمایہ کاری کر کے اپنی مضبوط موجودگی قائم کی۔ فٹبال، گولف، اسنوکر، خواتین ٹینس، ریسلنگ اور دیگر کھیلوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ لگا کر سعودی عرب نے دنیا بھر کی توجہ حاصل کی۔ اس حکمت عملی کا مقصد معیشت کو تیل پر انحصار سے نکال کر متنوع بنانا تھا، جسے وژن 2030 کا اہم حصہ قرار دیا گیا۔
جرمن نیوز ویب سائیٹ ڈی ڈبلیو کے مطابق سعودی حکومت نے معروف کھلاڑیوں کو بھاری معاوضوں پر معاہدے دیے، بڑے عالمی مقابلوں کی میزبانی حاصل کی اور متعدد کھیلوں میں اپنی سرمایہ کاری بڑھائی۔ تاہم اب ایسے اشارے سامنے آ رہے ہیں کہ مملکت کھیلوں کے شعبے میں اپنی بعض سرگرمیوں کو محدود کر رہی ہے۔
حالیہ دنوں میں سب سے نمایاں پیش رفت لائیو گالف کی بندش ہے۔ یہ لیگ سعودی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کے تحت 2021 میں شروع کی گئی تھی اور اس نے روایتی گولف سرکٹ کے کئی بڑے کھلاڑیوں کو اپنی جانب متوجہ کیا تھا۔ حکام کے مطابق اس منصوبے کے لیے درکار بھاری سرمایہ کاری اب موجودہ معاشی حکمت عملی سے مطابقت نہیں رکھتی۔
اسی طرح سعودی فنڈ نے فٹبال کلب الہلال ایس ایف سی میں اپنے حصص فروخت کرنے کا فیصلہ بھی کیا، جبکہ مختلف عالمی کھیلوں کے ایونٹس منسوخ یا محدود کیے جا رہے ہیں۔ اسنوکر کا سعودی ماسٹرز ٹورنامنٹ، خواتین ٹینس کے بعض مقابلے، اور چند دیگر بین الاقوامی منصوبے بھی اب ختم کیے جا چکے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس تبدیلی کی وجہ صرف معاشی نہیں بلکہ سیاسی عوامل بھی ہیں۔ سعودی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کے سربراہ یاسر الرمایان نے عندیہ دیا کہ خطے میں بڑھتی کشیدگی، خصوصاً ایران سے متعلق صورتحال، اور کھیلوں میں کم مالی منافع کے باعث سرمایہ کاری پالیسی پر نظرثانی کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل سعودی اسپورٹس منصوبوں کو اسپورٹس واشنگ قرار دیتی رہی ہیں۔ ان کے مطابق کھیلوں میں سرمایہ کاری کے ذریعے مملکت اپنے انسانی حقوق کے ریکارڈ پر ہونے والی تنقید سے توجہ ہٹانے کی کوشش کرتی ہے۔











