یورپی یونین نے تقریباً 14 سال بعد شام کے ساتھ مکمل تجارتی تعلقات بحال کرنے کا اعلان کر دیا، جسے جنگ زدہ ملک کی اقتصادی بحالی کیلئے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
یورپی کونسل کے مطابق شام کے ساتھ تعاون کے معاہدے پر عائد جزوی پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں، جس کے بعد یورپی ممالک اور شام کے درمیان تجارت دوبارہ بحال ہو سکے گی۔
یورپی کونسل نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ “شام کے ساتھ دوبارہ روابط قائم کرنے اور اس کی معیشت کی بحالی میں مدد دینے کیلئے یورپی یونین کے عزم کا واضح سیاسی پیغام ہے۔”
برسلز میں یورپی وزرائے خارجہ نے شامی وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی سے بھی ملاقات کی، جہاں دونوں فریقوں کے درمیان اعلیٰ سطحی سیاسی مذاکرات کا آغاز ہوا۔ یہ پیش رفت دسمبر 2024 میں بشار الاسد کے اقتدار سے ہٹائے جانے کے تقریباً ڈیڑھ سال بعد سامنے آئی ہے۔
واضح رہے کہ 2011 میں شامی حکومت کی جانب سے حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف کارروائی کے بعد یورپی یونین نے شام کے ساتھ تجارتی تعاون معطل کر دیا تھا، جس کے بعد خانہ جنگی نے پورے ملک کو تباہی سے دوچار کر دیا۔
اعداد و شمار کے مطابق 2010 میں شام اور یورپی یونین کے درمیان تجارت کا حجم 7 ارب یورو سے زائد تھا، تاہم 2023 تک یہ کم ہو کر چند سو ملین یورو رہ گیا


