ٹرمپ پر مبینہ قاتلانہ حملے کا ملزم کوہل ایلن عدالت میں پیش، الزامات ماننے سے انکار

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر مبینہ قاتلانہ حملے کے الزام میں گرفتار 31 سالہ کوہل ایلن نے عدالت میں تمام الزامات سے انکار کر دیا ہے۔

ملزم کے وکیل نے عدالت میں ان کی جانب سے “نوٹ گلٹی” کی درخواست داخل کی، جبکہ فرد جرم میں صدر پر قاتلانہ حملے کی کوشش، فیڈرل اہلکار پر حملہ اور آتشیں اسلحے کے استعمال سمیت متعدد سنگین الزامات شامل ہیں۔

پراسیکیوٹرز کے مطابق کوہل ایلن نے گزشتہ ماہ وائٹ ہاؤس کورسپانڈنٹس ڈنر کے دوران سیکیورٹی چیک پوسٹ پر حملہ کرتے ہوئے ایک سیکیورٹی اہلکار پر شاٹ گن سے فائرنگ کی تھی۔ واقعے کے وقت تقریب میں اعلیٰ حکومتی شخصیات بھی موجود تھیں۔

دفاعی ٹیم نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کیس میں امریکی محکمہ انصاف کے بعض اعلیٰ حکام کا کردار متنازع ہے، کیونکہ وہ اس واقعے کے ممکنہ گواہ یا متاثرہ فریق ہو سکتے ہیں، جس سے مفادات کے ٹکراؤ کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔

دفاعی وکیل نے خاص طور پر نیویارک کے پراسیکیوٹرز کے کردار پر سوال اٹھایا ہے اور کہا ہے کہ ممکنہ طور پر پورے واشنگٹن ڈی سی پراسیکیوشن آفس کو کیس سے الگ کیا جانا چاہیے۔

دوسری جانب عدالت نے فوری طور پر اس درخواست پر فیصلہ نہیں دیا اور دفاعی ٹیم سے مزید وضاحت طلب کر لی ہے۔

کوہل ایلن آئندہ سماعت کے دوران دوبارہ عدالت میں پیش ہوں گے، جبکہ اگر وہ مجرم ثابت ہوئے تو انہیں عمر قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔