دنیا میں ہر سال تقریباً سات لاکھ ساٹھ ہزار افراد مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں، جیسے ملیریا، ڈینگی، زیکا اور چکن گونیا کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق زمین پر موجود تقریباً 3500 اقسام کے مچھروں میں سے صرف 100 انسانوں کو کاٹتے ہیں، جبکہ صرف 5 اقسام 95 فیصد خطرناک بیماریوں کی ذمہ دار ہیں۔
سائنسدان اب جینیاتی ٹیکنالوجی کے ذریعے ان مخصوص مچھروں کو ختم یا بے ضرر بنانے پر کام کر رہے ہیں۔ ایک تحقیق میں جینیاتی تبدیلی کے بعد ملیریا پھیلانے والے مچھروں کی پوری آبادی چند نسلوں میں ختم ہوگئی۔
دوسری جانب برازیل میں ایسے مچھر چھوڑے گئے جن میں خاص بیکٹیریا شامل تھا، جس کے بعد ڈینگی کیسز میں 89 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ مچھر ماحول کا حصہ ہیں، لیکن انسانوں کے لیے سب سے خطرناک اقسام کے خاتمے سے ماحولیاتی نظام پر بڑا اثر نہیں پڑے گا۔ تاہم کچھ سائنسدان خبردار کرتے ہیں کہ قدرتی توازن سے چھیڑ چھاڑ مستقبل میں نئے خطرات بھی پیدا کرسکتی ہے۔
سوال اب بھی باقی ہے… کیا انسان واقعی اپنے سب سے بڑے دشمن کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے قریب پہنچ چکا ہے؟


