قومی احتساب بیورو (نیب) کراچی نے بحریہ ٹاؤن کراچی کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے اربوں روپے مالیت کی جائیدادیں منجمد کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔
نیب نے بحریہ ہلز میں واقع 67 ایکڑ پر محیط “علی ولا” کو بھی منجمد کر دیا ہے، جو مبینہ طور پر ملک ریاض حسین کی ذاتی رہائش کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا اور ان کے بیٹے علی ریاض ملک کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔ اس لگژری حویلی میں ہیلی پیڈ، سوئمنگ پولز اور منی چڑیا گھر سمیت جدید سہولیات موجود ہیں۔
مزید کارروائی میں نیب نے 1338 ایکڑ اراضی بھی منجمد کر دی ہے، جس پر الزام ہے کہ یہ زمین حکومتِ سندھ کی ملکیت تھی اور اسے مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر بحریہ ٹاؤن منصوبے میں شامل کیا گیا۔
اسی طرح بحریہ ٹاؤن 2 کی 3150 ایکڑ زمین بھی منجمد کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں، جس کے حوالے سے مبینہ طور پر دھوکہ دہی اور غیر قانونی خریداری کے الزامات سامنے آئے ہیں۔
نیب کے مطابق اس پورے معاملے میں سندھ حکومت کے بعض اہلکاروں کی ملی بھگت کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں، جبکہ احتساب عدالت میں پہلے ہی 708 ارب روپے مالیت کے مبینہ زمین اسکینڈل کا ریفرنس دائر کیا جا چکا ہے۔
حکام نے ہدایت کی ہے کہ منجمد کی گئی زمین کسی بھی تیسرے فریق کو منتقل نہ کی جائے، جبکہ تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے۔


