نیوزی لینڈ میں کلائمیٹ مقدمات پر بڑا وار، کمپنیوں کو قانونی تحفظ دینے کا اعلان

نیوزی لینڈ میں ماحولیاتی مقدمات پر بڑا سیاسی طوفان کھڑا ہوگیا، حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اب کمپنیوں کو “کلائمیٹ چینج نقصان” کے مقدمات سے قانونی تحفظ دیا جائے گا۔

وزیرِ انصاف پال گولڈ اسمتھ کے مطابق نئی قانون سازی کا مقصد ایسی عدالتی کارروائیوں کو روکنا ہے جن میں کمپنیوں کو گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج پر ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔

یہ فیصلہ اُس وقت سامنے آیا جب ماوری ماحولیاتی کارکن مائیکل اسمتھ نے نیوزی لینڈ کی بڑی کمپنیوں، جن میں ڈیری کمپنی فونٹیرا بھی شامل ہے، کے خلاف موسمیاتی نقصان کا مقدمہ دائر کیا۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ موسمیاتی تبدیلی جیسے پیچیدہ مسئلے کا حل عدالتیں نہیں بلکہ پالیسیاں اور حکومتی فیصلے ہیں، جبکہ ناقدین اسے بڑی کمپنیوں کو “تحفظ” دینے کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔

ماحولیاتی حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومتیں خود قوانین بدل کر مقدمات ختم کرنے لگیں تو دنیا بھر میں ماحولیاتی انصاف خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

واضح رہے کہ نیوزی لینڈ کی موجودہ حکومت پہلے ہی الیکٹرک گاڑیوں کی سبسڈی ختم، تیل و گیس کی تلاش پر پابندی واپس اور مائننگ منصوبوں کو تیز کرنے جیسے فیصلوں پر تنقید کی زد میں ہے۔