ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک نئے خطرناک مرحلے میں داخل ہوگئی، ماہرین کا کہنا ہے کہ تہران اب یہ سمجھتا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو “انتظار کی جنگ” میں شکست دے سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کی قیادت اس وقت کسی دباؤ میں جھکنے کے بجائے وقت حاصل کرنے کی حکمت عملی پر عمل کر رہی ہے، جبکہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول کو اپنا سب سے بڑا ہتھیار سمجھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایران جانتا ہے کہ تیل کی بڑھتی قیمتیں اور امریکی عوامی دباؤ ٹرمپ کیلئے سیاسی بحران بن سکتے ہیں، خاص طور پر مڈٹرم انتخابات سے پہلے۔
ادھر تہران میں ایک بڑا بل بورڈ بھی نصب کردیا گیا ہے جس میں ڈونلڈ ٹرمپ کے منہ پر آبنائے ہرمز کی شکل کی پٹی دکھائی گئی ہے، ساتھ ہی نعرہ درج ہے “بریکنگ پوائنٹ”۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، لیکن ہتھیار ڈالنے کیلئے بھی تیار نہیں۔ تاہم اس خطرناک حکمت عملی سے خطہ دوبارہ بڑی جنگ کی طرف جا سکتا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر کشیدگی بڑھی تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت، تیل کی قیمتیں اور خوراک کی سپلائی بھی شدید بحران کا شکار ہوسکتی ہے۔


