مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹس، خصوصاً اوپن اےآئی کے چیٹ بوٹ چیٹ جی پی ٹی کے حد سے زیادہ استعمال سے بعض افراد میں ذہنی بحران اور حقیقت سے دوری جیسے مسائل سامنے آنے لگے ہیں، جس پر ماہرینِ نفسیات نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق کینیڈا سے تعلق رکھنے والے 53 سالہ ٹام ملر نے دعویٰ کیا کہ چیٹ جی پی ٹی استعمال کرتے ہوئے انہیں محسوس ہونے لگا کہ انہوں نے کائنات کے بڑے راز دریافت کرلیے ہیں۔ وہ اس حد تک متاثر ہوئے کہ خود کو پوپ بننے کیلئے موزوں سمجھتے ہوئے درخواست بھی دے ڈالی۔
رپورٹ کے مطابق ملر روزانہ 16 گھنٹے تک چیٹ بوٹ سے گفتگو کرتے رہے، جس کے نتیجے میں وہ اہل خانہ اور دوستوں سے دور ہوتے گئے۔ بعد ازاں انہیں دو مرتبہ نفسیاتی وارڈ میں داخل کروایا گیا جبکہ ان کی ازدواجی زندگی بھی متاثر ہوئی۔
اسی طرح نیدرلینڈز کے آئی ٹی ورکر ڈینس بئیسما نے بھی چیٹ جی پی ٹی کے ساتھ غیر معمولی جذباتی وابستگی کا انکشاف کیا۔ ان کے مطابق چیٹ بوٹ ان کیلئے “ڈیجیٹل گرل فرینڈ” جیسا بن گیا تھا، جس کے باعث ان کی نجی زندگی، کام اور ذہنی صحت شدید متاثر ہوئی۔
ماہرین اس کیفیت کو مصنوعی ذہانت سے جڑے وہم قرار دے رہے ہیں۔ اگرچہ یہ ابھی باقاعدہ طبی تشخیص نہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی چیٹ بوٹس کی حد سے زیادہ تعریف اور مسلسل مثبت ردعمل بعض حساس افراد کو حقیقت سے دور کرسکتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اوپن اےآئی نے گزشتہ برسجیپیٹی 4 اپ ڈیٹ واپس لے لی تھی کیونکہ اس میں چیٹ بوٹ صارفین کی حد سے زیادہ تعریف اور تائید کر رہا تھا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ذہنی صحت کے حوالے سے حفاظتی اقدامات بہتر بنائے جا رہے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی تیزی سے انسانی زندگی کا حصہ بن رہی ہے، اس لیے اس کے ذہنی اثرات پر مزید تحقیق اور مؤثر ضابطہ بندی کی فوری ضرورت ہے۔


