پیپلزپارٹی کی حمایت کے بغیر کسی آئینی ترمیم یا بجٹ کی منظوری ممکن نہیں: بلاول

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ 28ویں آئینی ترمیم پر ابھی کوئی باضابطہ بات نہیں ہوئی، تاہم پیپلزپارٹی کی حمایت کے بغیر آئینی ترمیم یا بجٹ کی منظوری ممکن نہیں

اسلام آباد میں پیپلز پارٹی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد بلاول بھٹو زرداری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک اس وقت شدید مالی اور معاشی بحران سے گزر رہا ہے جبکہ عوام مہنگائی کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔ وزیراعظم کی جانب سے عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہیں اور وفاق و صوبے مل کر مہنگائی کم کرنے کی کوشش کریں گے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ موٹر سائیکل سواروں کو پٹرول پر ریلیف دیا جا رہا ہے جبکہ آنے والے بجٹ میں مزید مشکلات کا امکان ہے، اس لیے حکومت کو عوامی ریلیف کے فیصلے کرنا ہوں گے۔ انہوں نے بجٹ مذاکرات کیلئے راجہ پرویز اشرف، سلیم مانڈوی والا، شیری رحمان اور نوید قمر پر مشتمل چار رکنی کمیٹی بھی تشکیل دے دی۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے واضح کیا کہ 28ویں آئینی ترمیم پر ابھی کوئی باضابطہ بات نہیں ہوئی، تاہم پیپلزپارٹی کی حمایت کے بغیر آئینی ترمیم یا بجٹ کی منظوری ممکن نہیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی درست سمت میں جا رہی ہے اور سعودی عرب، دبئی سمیت خطے کے ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے ایران پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے اور وزیراعظم و فیلڈ مارشل امن کیلئے سفارتی کوششیں کر رہے ہیں۔