بوئنگ کمپنی کو طارہ حادثے پر متاثرہ خاندان کو 4 کروڑ 95 لاکھ ڈالر ادا کرنے کا حکم

امریکی ریاست شکاگو کی ایک جیوری نے 2019 میں پیش آنے والے مہلک بوئنگ 737 میکس طیارہ حادثے میں ہلاک ہونے والی 24 سالہ امریکی شہری سامعہ استومو کے اہلخانہ کے حق میں بڑا فیصلہ سناتے ہوئے 4 کروڑ 95 لاکھ ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

یہ مقدمہ بوئنگ کے خلاف سامیا اسٹومو کے اہلخانہ نے دائر کیا تھا۔ سامیا مارچ 2019 میں ایتھوپین ایئرلائنز کی پرواز 302 میں سوار تھیں، جو ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا سے ٹیک آف کے چند منٹ بعد ہی گر کر تباہ ہوگئی تھی۔ حادثے میں جہاز میں موجود تمام 157 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

یہ حادثہ 2018 میں انڈونیشیا میں پیش آنے والے لائن ایئر کے طیارہ حادثے کے چند ماہ بعد پیش آیا تھا۔ دونوں حادثات میں مجموعی طور پر 346 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے، جس کے بعد دنیا بھر میں بوئنگ 737 میکس طیاروں کی حفاظت پر سنگین سوالات اٹھائے گئے۔

عدالتی کارروائی کے دوران متاثرہ خاندان کے وکیل شینن اسپیکٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ بوئنگ نے غیر محفوظ طیارہ تیار کیا اور کمپنی کی غفلت کے باعث یہ المناک حادثات پیش آئے۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ طیارے میں نصب اینٹی اسٹال سسٹم ایم سی اے ایس میں خامیاں موجود تھیں، جنہوں نے طیارے کو قابو سے باہر کردیا۔

سماعت کے دوران سامیا اسٹومو کے والد میکائیل استومو نے جذباتی بیان دیتے ہوئے کہا کہ بیٹی کی موت کے بعد خاندان آج تک اس صدمے سے باہر نہیں نکل سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ “ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے خوش رہنے کی اجازت ہی نہیں رہی۔”

دوسری جانب بوئنگ نے عدالتی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کمپنی دونوں حادثات میں اپنے پیاروں کو کھونے والے خاندانوں کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ بوئنگ کے مطابق زیادہ تر مقدمات عدالت سے باہر حل کرلیے گئے تھے، تاہم بعض خاندانوں نے قانونی کارروائی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔

واضح رہے کہ 2025 میں ایک امریکی جج نے حکومتی معاہدے کے تحت بوئنگ کے خلاف فوجداری الزامات ختم کردیئے تھے، تاہم متاثرہ خاندانوں کی جانب سے سول مقدمات اب بھی جاری ہیں۔ گزشتہ برس نومبر میں بھی ایک اور متاثرہ خاندان کو تقریباً 2 کروڑ 84 لاکھ ڈالر ہرجانہ دینے کا حکم دیا گیا تھا، جبکہ اگلا مقدمہ رواں سال اگست میں سنا جائے گا۔