امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان بیجنگ میں ایک اہم ملاقات ہوئی جسے دونوں جانب سے اچھی قرار دیا جارہا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق مذاکرات کے دوران دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھا جانا چاہیے تاکہ عالمی توانائی کی ترسیل بلا رکاوٹ جاری رہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ آبی گزرگاہ دنیا کی تیل اور گیس سپلائی کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ جنگ سے قبل تقریباً 20 فیصد عالمی توانائی اسی راستے سے گزرتی تھی۔
صدر شی جن پنگ نے مستقبل میں آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے کے لیے امریکا سے مزید تیل خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی، تاہم چین کی جانب سے جاری بیان میں اس دعوے کی تصدیق نہیں کی گئی۔
مذاکرات میں تائیوان کے حساس معاملے پر کسی بات چیت کا ذکر نہیں کیا گیا، حالانکہ یہ ایشو دونوں ممالک کے تعلقات میں بنیادی تنازع سمجھا جاتا ہے۔
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق صدر شی جن پنگ نے پہلے خبردار کیا تھا کہ تائیوان کے معاملے کو غلط طریقے سے ہینڈل کرنے کی صورت میں دونوں ممالک کے درمیان سنگین تنازع پیدا ہو سکتا ہے۔


