بنگلا دیش میں خسرہ کی ایک شدید اور جان لیوا وبا نے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، جس میں اب تک تقریباً 500 بچوں کی اموات رپورٹ کی گئی ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کے مطابق یہ حالیہ دہائیوں کی سب سے خطرناک خسرہ وبا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 6 بچوں کی موت کے بعد مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 481 تک پہنچ گئی ہے۔ ملک بھر میں مارچ کے وسط سے شروع ہونے والی اس وبا میں اب تک 50,000 سے زائد مشتبہ اور تصدیق شدہ کیسز سامنے آ چکے ہیں۔
اس صورتحال کے پیش نظر بنگلا دیشی حکومت نے ملک گیر ویکسینیشن مہم شروع کر دی ہے، جس کے تحت اب تک تقریباً 18 ملین بچوں کو خسرہ اور روبیلا کی ویکسین لگائی جا چکی ہے۔ یونیسیف کی نمائندہ رانا فلاورز کے مطابق یہ ایک اہم پیش رفت ہے، تاہم اس کے اثرات ظاہر ہونے میں کچھ وقت لگے گا۔
وزارتِ صحت کے ترجمان زاہد ریحان نے بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں بہتری کے آثار دکھائی دے رہے ہیں، لیکن ویکسین کے مکمل اثرات سامنے آنے میں تقریباً چار ماہ لگ سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق خسرہ ایک انتہائی متعدی بیماری ہے جو خاص طور پر چھوٹے بچوں کو شدید متاثر کرتی ہے۔ شدید صورت میں یہ پھیپھڑوں اور دماغ کو متاثر کر سکتی ہے، جس سے مستقل نقصان یا موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔
یونیسیف نے خبردار کیا ہے کہ وبا کی ایک بڑی وجہ ماضی میں ویکسین کی فراہمی اور منصوبہ بندی میں تاخیر ہے۔ ادارے کے مطابق سیاسی تبدیلیوں اور انتظامی مسائل کے باعث حفاظتی ٹیکہ جات کے پروگرام متاثر ہوئے، جس سے بچوں کی ایک بڑی تعداد غیر محفوظ رہ گئی۔
یونیسیف حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مستقبل میں حفاظتی ٹیکوں کے نظام کو مزید مضبوط بنانے، صحت کے نظام میں سرمایہ کاری بڑھانے اور نگرانی کے نظام کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ایسی تباہ کن وباؤں سے بچا جا سکے۔
ادارے کے مطابق یہ وبا اچانک نہیں پھیلی بلکہ کئی سالوں سے وارننگز دی جا رہی تھیں، جن پر مکمل عمل درآمد نہ ہو سکا۔


