چین میں کوئلے کی کان میں دھماکے سے 90 افراد ہلاک

چین کے شمالی صوبے شانشی میں کوئلے کی کان میں ہونے والے خوفناک گیس دھماکے میں کم از کم 90 کان کن ہلاک جبکہ 123 زخمی ہو گئے۔ یہ حادثہ گزشتہ 17 برسوں میں چین کی بدترین کان کنی تباہی قرار دیا جا رہا ہے۔

چینی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق حادثہ جمعہ کی شام لیوشینیو کول مائن میں پیش آیا، جہاں دھماکے کے وقت 247 مزدور زیرِ زمین موجود تھے۔ زخمیوں میں چار افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے جبکہ متعدد کان کنوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد گھروں کو واپس بھیج دیا گیا۔

ریسکیو حکام کے مطابق امدادی کارروائیوں میں 755 سے زائد اہلکار حصہ لے رہے ہیں اور کئی گھنٹوں بعد بھی تلاش و بچاؤ کا عمل جاری رہا۔ سرکاری ٹی وی کی فوٹیج میں ہیلمٹ پہنے امدادی کارکنوں کو اسٹریچر اٹھائے اور ایمبولینسوں کو جائے حادثہ پر دیکھا گیا۔

حادثے میں بچ جانے والے ایک کان کن وانگ یونگ نے بتایا کہ دھماکے کے بعد دھواں پھیل گیا اور فضا میں گندھک کی شدید بو محسوس ہوئی۔ ان کے مطابق کئی مزدور دھوئیں سے بے ہوش ہو گئے تھے۔

چینی صدر شی جن پنگ نے زخمیوں کے علاج اور امدادی سرگرمیوں کے لیے “ہر ممکن کوشش” کی ہدایت دیتے ہوئے واقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے ملک بھر میں صنعتی و کان کنی کے شعبوں میں حفاظتی اقدامات مزید سخت بنانے پر بھی زور دیا۔

سرکاری حکام کے مطابق کان چلانے والی کمپنی کے ایک ذمہ دار شخص کو قانونی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔ ابتدائی رپورٹس میں کاربن مونو آکسائیڈ گیس کی خطرناک حد تک موجودگی کا انکشاف کیا گیا تھا، جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا۔

شانشی صوبہ چین میں کوئلے کی پیداوار کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ حالیہ برسوں میں کان کنی کے شعبے میں حفاظتی معیار بہتر ہوئے ہیں، تاہم ناقص حفاظتی اقدامات اور کمزور نگرانی کے باعث ایسے حادثات اب بھی رونما ہوتے رہتے ہیں۔