اہم ترین

نیند صرف آرام نہیں، دماغ کی صفائی کا قدرتی نظام بھی متحرک ہوتا ہے:تحقیق

نئی سائنسی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ نیند صرف جسم اور دماغ کو آرام فراہم کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ اس دوران دماغ ایک اہم صفائی کے عمل سے بھی گزرتا ہے، جو نقصان دہ مادوں کو خارج کرکے دماغی صحت کو برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

سائنسی جریدے ’’سائنس‘‘ میں شائع ہونے والے ایک تحقیقی جائزے کے مطابق نیند کے دوران دماغ کا ایک خصوصی نظام، جسے ’’گلیمفیٹک سسٹم‘‘ کہا جاتا ہے، متحرک ہو جاتا ہے۔ یہ نظام دماغ میں جمع ہونے والے فاضل اور ممکنہ طور پر نقصان دہ پروٹینز کو صاف کرتا ہے، جن میں بیٹا ایمائلائڈ اور ٹاؤ پروٹین شامل ہیں۔ یہی پروٹینز الزائمر اور دیگر اعصابی بیماریوں سے منسلک سمجھے جاتے ہیں۔

تحقیق کی سربراہ ماہرِ اعصابیات ڈاکٹر مائیکن نیڈرگارڈ کے مطابق مختلف مطالعات سے ملنے والے شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ نیند کے دوران دماغی صفائی کے اس عمل میں خرابی اعصابی تنزلی اور ڈیمنشیا جیسی بیماریوں کے خطرات میں اضافہ کر سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق گہری نیند یا سلو ویو سلیپ کے دوران دماغ میں موجود کیمیائی پیغامات رسانی کے نظام ہم آہنگ انداز میں کام کرتے ہیں، جس سے دماغی مائع کی گردش بہتر ہوتی ہے اور زہریلے فضلات مؤثر طریقے سے خارج ہوتے ہیں۔

تحقیقی جائزے میں یہ بھی بتایا گیا کہ اگر نیند بار بار متاثر ہو یا اس کا معیار خراب ہو تو دماغی صفائی کا یہ نظام کم مؤثر ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں نقصان دہ مادے جمع ہونا شروع ہو سکتے ہیں۔ وقت کے ساتھ یہ عمل یادداشت، سیکھنے کی صلاحیت اور دماغی افعال کو متاثر کر سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نیند اور ڈیمنشیا کے درمیان تعلق دو طرفہ ہو سکتا ہے۔ ایک طرف ناقص نیند دماغی فضلات کے اخراج میں رکاوٹ بنتی ہے، جبکہ دوسری طرف ابتدائی اعصابی بیماریوں کی وجہ سے بھی نیند کا نظام متاثر ہو سکتا ہے، جس سے ایک منفی چکر شروع ہو جاتا ہے۔

تحقیق میں دل کی دھڑکن کے وقفوں میں آنے والی تبدیلیوں، جسے ’’ہارٹ ریٹ ویری ایبلٹی‘‘ کہا جاتا ہے، کو بھی دماغی صحت کا ممکنہ اشارہ قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق مستقبل میں یہ طریقہ دماغی صفائی کے عمل اور ڈیمنشیا کے خطرات کا اندازہ لگانے کے لیے ایک سادہ اور کم خرچ ذریعہ بن سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

ماہرین نے دماغی صحت بہتر رکھنے کے لیے باقاعدہ اور مکمل نیند لینے، روزانہ جسمانی سرگرمی اختیار کرنے، ذہنی دباؤ کم رکھنے اور رات کے وقت تیز روشنی یا محرک اشیا سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

تحقیق کے مطابق معیاری اور گہری نیند نہ صرف روزمرہ ذہنی کارکردگی کو بہتر بناتی ہے بلکہ طویل المدتی دماغی صحت اور بڑھتی عمر میں یادداشت کے تحفظ کے لیے بھی انتہائی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

پاکستان