امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے پر راضی ہوگیا۔
جرمن نیوز ویب سائیٹ ڈی ڈبلیو نے امریکی ذرائع ابلاغ کےحوالے سے بتایاہےکہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کو پہلے سے زیادہ سخت شرائط پر مشتمل ایک نیا سفارتی فریم ورک بھیجا ہے۔
فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ان کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے۔ ان کے بقول، ’انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے، اور یہ ایک دلچسپ پیش رفت ہے۔
امریکی صدر نے واضح کیا کہ کسی بھی حتمی معاہدے میں دو بنیادی ترجیحات شامل ہیں: ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنا اور آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کو مکمل طور پر بحال کرنا، کیونکہ یہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے۔
دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ وہ بامعنی مذاکرات کے آغاز سے قبل تقریباً 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کی بحالی چاہتا ہے۔
ایرانی ذرائع ابلاغ نے ٹرمپ کے اس دعوے کو بھی مسترد کیا ہے کہ تہران اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر ختم کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے۔
ایران نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ کسی ممکنہ معاہدے میں لبنان کی صورتحال کو بھی شامل کیا جائے، جہاں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی اور جھڑپیں جاری ہیں۔
لبنانی حکام نے اسرائیل پر فضائی حملوں اور وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے کا الزام عائد کیا ہے، جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائیاں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔
اگرچہ امریکی حکام اس سے قبل معاہدے کے قریب ہونے کے اشارے دیتے رہے ہیں، تاہم ٹرمپ نے اپنے حالیہ انٹرویو میں ممکنہ فوجی کارروائی کا عندیہ بھی دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا جلد بازی میں نہیں ہے اور اگر سفارتی کوششوں سے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہوئے تو معاملہ کسی اور طریقے سے بھی حل کیا جا سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات کا نتیجہ نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی، عالمی تیل کی منڈی اور آبنائے ہرمز کے مستقبل پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔











