ایک نئی سائنسی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مچھر صرف فطری جبلت کے مطابق عمل نہیں کرتے بلکہ وہ تجربات سے سیکھنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔
جرنل آف ایکسپیریمنٹل بائیولوجی میں شائع تحقیق کے مطابق سائنسدانوں نے ڈینگی، زرد بخار، زیکا وائرس اور چکن گونیا جیسی خطرناک بیماریوں کو پھیلانے کے لیے مچھروں کی قسم ایڈیز ایجپٹائی کا مطالعہ کیا۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے مچھروں کو بار بار ایسی صورتحال سے گزارا جہاں انہیں خوراک حاصل کرتے وقت ڈیٹ کی بو محسوس ہوئی۔ چند مرتبہ اس عمل کے دہرانے کے بعد 60 فیصد سے زائد مچھر صرف ڈیٹ کی بو سونگھ کر خوراک حاصل کرنے کی کوشش کرنے لگے۔
مزید تجربات میں دیکھا گیا کہ تربیت یافتہ مچھر بعض اوقات ڈیٹ لگے ہوئے ہاتھ کی طرف بھی متوجہ ہوئے، جبکہ عام مچھر فطری طور پر ایسے ہاتھ سے دور رہتے ہیں۔
ماہرین نے تاہم واضح کیا ہے کہ اس تحقیق کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ڈیٹ غیر مؤثر ہو گیا ہے یا لوگوں کو اس کا استعمال ترک کر دینا چاہیے۔ ڈیٹ اب بھی دنیا کے مؤثر ترین مچھر بھگانے والے مرکبات میں شمار ہوتا ہے اور بیماریوں سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
تحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر کلیمنٹ وینوگر کے مطابق اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہو سکتا ہے جب ریپیلنٹ کی مقدار جلد پر بہت کم رہ جائے اور اس کے باوجود مچھر خون چوسنے میں کامیاب ہو جائیں۔ ایسی صورت میں بعض مچھر ڈیٹ کی بو کو خوراک کے حصول سے منسلک کرنا سیکھ سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسی وجہ سے ریپیلنٹ کو کمپنی کی ہدایات کے مطابق مقررہ وقفوں سے دوبارہ لگانا ضروری ہے تاکہ اس کی مؤثر مقدار برقرار رہے اور مچھر اس سے بچتے رہیں۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ مچھر بو، بصارت اور یادداشت کو ملا کر اپنے شکار کی تلاش کرتے ہیں اور وہ بعض تجربات کو طویل عرصے تک یاد رکھ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سائنسدان اب مچھروں کی ذہانت اور رویوں کو بہتر طور پر سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ مستقبل میں زیادہ مؤثر ریپیلنٹس اور حفاظتی حکمت عملی تیار کی جا سکے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ مچھروں سے بچاؤ کے لیے گھروں اور اطراف میں کھڑا پانی ختم کریں، کھڑکیوں پر جالیاں لگائیں اور منظور شدہ ریپیلنٹس کا باقاعدگی سے استعمال کریں، کیونکہ مچھر اب بھی دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو خطرناک بیماریوں میں مبتلا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔











