مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیزی سے بڑھتی مقبولیت کے ساتھ اس کی لاگت بھی نمایاں طور پر بڑھنے لگی ہے، جس کے باعث دنیا بھر کی کمپنیاں اپنی اےآئی حکمتِ عملی پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔
ماہرین کے مطابق جب چیٹ جی پی ٹی اور دیگر جدید اےآئی ٹولز متعارف ہوئے تو ٹیکنالوجی کمپنیوں نے صارفین کو راغب کرنے کے لیے انتہائی کم قیمتوں پر خدمات فراہم کیں۔ اس دوران سرمایہ کاروں کی بڑی سرمایہ کاری نے اخراجات کا بوجھ اٹھایا، جسے بعض تجزیہ کار “سبسڈائزڈ انٹیلی جنس” کا دور قرار دیتے ہیں۔
تاہم اب صورتحال بدل رہی ہے۔ اےآئی شعبے کی بڑی کمپنیاں جیسے اوپن اےآئی اور اینتھروپک مستقبل میں منافع کمانے اور مزید سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، جس کے نتیجے میں اےآئی خدمات کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
روایتی چیٹ بوٹس صرف سوالات کے جواب دیتے ہیں، جبکہ اےآئی ایجنٹس مختلف عملی کام انجام دے سکتے ہیں، جیسے ملاقاتوں کا شیڈول بنانا، کوڈ لکھنا، فائلوں کا انتظام کرنا اور دیگر پیچیدہ امور سرانجام دینا۔
ماہرین کے مطابق ایک اےآئی ایجنٹ پر مبنی کام کے دوران بیک وقت متعدد ایجنٹس متحرک ہو سکتے ہیں، جس سے کمپیوٹنگ وسائل کا استعمال کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ اسی وجہ سے ایسے کاموں کی لاگت عام چیٹ بوٹ استعمال کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتی ہے۔
اےآئی کمپنیاں اپنے صارفین سے عموماً ٹوکنز کی بنیاد پر فیس وصول کرتی ہیں۔ جوں جوں اےآئی ایجنٹس کا استعمال بڑھ رہا ہے، ٹوکنز کی کھپت بھی کئی گنا بڑھ رہی ہے، جس سے صارفین اور کاروباری اداروں کے اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ خاص طور پر سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ اور کوڈنگ کے شعبے میں اےآئی کے استعمال کی لاگت گزشتہ عرصے کے دوران نمایاں طور پر بڑھ چکی ہے۔
دوسری جانب اےآئی کو چلانے کے لیے درکار جدید کمپیوٹر چپس اور ڈیٹا سینٹرز کی طلب بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ صنعت کو کمپیوٹنگ وسائل کی کمی کا سامنا ہے، جس سے اخراجات مزید بڑھ رہے ہیں اور مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔
بڑھتے اخراجات کے باعث کئی ادارے اب اوپن سورس اےآئی ماڈلز کی جانب منتقل ہو رہے ہیں، جو اگرچہ جدید ترین ماڈلز جتنے طاقتور نہیں، لیکن متعدد روزمرہ کاموں کے لیے کافی مؤثر ثابت ہو رہے ہیں۔
کچھ کمپنیاں مخصوص شعبوں، مثلاً رئیل اسٹیٹ یا فنانس، کے لیے تیار کردہ چھوٹے اور خصوصی اےآئی ماڈلز استعمال کر رہی ہیں، جبکہ بعض ادارے بڑے کاموں کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کر کے ہر مرحلے کے لیے کم لاگت والے ماڈلز استعمال کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق بعض صورتوں میں ایک ملین ٹوکنز کی لاگت 15 ڈالر تک ہو سکتی ہے، جبکہ مناسب حکمتِ عملی کے ذریعے یہی لاگت چند سینٹس تک کم کی جا سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اےآئی آہستہ آہستہ ایک کموڈٹی یا عام دستیاب سروس کی شکل اختیار کر رہا ہے، جہاں سب سے اہم بات یہ نہیں ہوگی کہ کون سا ماڈل استعمال ہو رہا ہے بلکہ یہ ہوگی کہ مطلوبہ کام کے لیے سب سے مؤثر اور کم لاگت حل کون سا ہے۔
اس کے باوجود ماہرین کا خیال ہے کہ جدید ترین اےآئی ماڈلز کی مانگ ختم نہیں ہوگی، کیونکہ بڑے ادارے اور پیشہ ور صارفین اعلیٰ معیار کی خدمات کے لیے اضافی قیمت ادا کرنے کو تیار رہیں گے۔











