انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی تازہ رپورٹ میں اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی بدو اور چرواہا کمیونٹیز کے خلاف منظم کارروائی کے ذریعے “نسلی صفائی” کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
تنظیم کی سیکرٹری جنرل ایگنیس کالامردنے رپورٹ کے اجرا کے موقع پر کہا کہ اسرائیلی اقدامات کا مقصد فلسطینی علاقوں کے ممکنہ انضمام کی راہ ہموار کرنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2023 سے 2025 کے درمیان مغربی کنارے کے ایریا سی میں موجود درجنوں بدو اور چرواہا کمیونٹیز کو یا تو جبری طور پر بے دخل کیا گیا یا وہ شدید دباؤ کے باعث نقل مکانی پر مجبور ہوئیں۔ یہ علاقہ مغربی کنارے کے تقریباً 60 فیصد حصے پر مشتمل ہے اور اوسلو معاہدوں کے تحت اسرائیلی انتظام میں آتا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں الزام لگایا ہے کہ اسرائیلی حکومت کی پالیسیاں بستیوں کی توسیع، زمینوں پر قبضے، اور آبادکاروں کو مسلح کرنے جیسے اقدامات کے ذریعے فلسطینی موجودگی کو محدود کر رہی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدامات کسی انفرادی شدت پسند گروہ کا نہیں بلکہ ریاستی سطح پر منظم پالیسی کا حصہ ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ آبادکاروں کے تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد فلسطینی کمیونٹیز کو اپنے علاقے چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ بعض علاقوں میں گھروں کو جلانے، املاک کی توڑ پھوڑ اور تشدد کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی حکومت اور اس کے حامی حلقے ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مغربی کنارے میں آبادکاری قانونی اور تاریخی حق کے تحت ہے، جبکہ تشدد کے واقعات چند “انتہا پسند افراد” کی کارروائیاں ہیں۔
رپورٹ میں عالمی برادری، خصوصاً یورپی یونین سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظرثانی کرے اور بستیوں کی توسیع روکنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کی سابقہ رپورٹس کے مطابق 2023 کے بعد سے مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس نے خطے کی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔











