جاوید جعفری کی اہلیہ سے کروڑوں کا فراڈ، اعلیٰ سرکاری افسر معطل

بالی ووڈ اداکار جاوید جعفری کی اہلیہ حبیبہ جعفری سے مبینہ طور پر 16.24 کروڑ بھارتی روپے کی دھوکہ دہی کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن نے اپنے اسسٹنٹ میونسپل کمشنر مہیش پاٹل کو معطل کر دیا ہے جبکہ کیس کی تحقیقات اب کرائم برانچ کے سپرد کر دی گئی ہیں۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق حبیبہ جعفری نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں ممبئی کے باندرہ علاقے میں ایک ری ڈیولپمنٹ منصوبے میں سرمایہ کاری کے نام پر بھاری منافع کا لالچ دیا گیا۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ مہیش پاٹل اور دیگر ملزمان نے مبینہ طور پر منصوبے کو منافع بخش قرار دے کر خاندان کا اعتماد حاصل کیا اور سرمایہ کاری کروائی۔

پولیس کے مطابق متاثرہ خاندان اور دیگر سرمایہ کاروں سے تقریباً 16.24 کروڑ روپے مختلف شکلوں میں وصول کیے گئے، جن میں نقد رقم، چیک، غیر ملکی کرنسی اور قیمتی اشیا بھی شامل تھیں۔ بعد ازاں مبینہ طور پر جعلی دستاویزات اور سرکاری کاغذات دکھا کر سرمایہ کاروں کو گمراہ کیا گیا۔

اس معاملے میں ممبئی کے کھار پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ایک ملزم کاروباری شخصیت نشیت پٹیل کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ مہیش پاٹل سمیت دیگر ملزمان کے کردار کی تحقیقات جاری ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق معطلی کے بعد مہیش پاٹل حکام کی نظروں سے اوجھل ہو گئے ہیں اور ان کی تلاش جاری ہے۔

تحقیقاتی اداروں کا کہنا ہے کہ وہ یہ بھی جانچ رہے ہیں کہ آیا اسی طرز کے منصوبوں کے ذریعے مزید افراد کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا یا نہیں۔ کیس کی سنگینی کے پیش نظر مالی لین دین، متعلقہ کمپنیوں اور دستاویزات کی تفصیلی چھان بین کی جا رہی ہے۔