ڈیپ فیک کا نیا خطرہ، فیس بک کی ایک تصویر آپ کو مشکل میں ڈال سکتی ہے

مصنوعی ذہانت (اے آئی ) نے جہاں زندگی کے کئی شعبوں میں سہولتیں پیدا کی ہیں، وہیں ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کی صورت میں ایک نیا اور سنگین خطرہ بھی سامنے آیا ہے۔ ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی گئی عام تصاویر کو استعمال کرتے ہوئے کسی بھی شخص، خصوصاً خواتین اور نوجوان لڑکیوں، کی جعلی اور گمراہ کن ویڈیوز تیار کی جا سکتی ہیں۔

ڈیپ فیک ایک جدید اے آئی ٹیکنالوجی ہے جس میں کسی فرد کے چہرے کو دوسرے ویڈیو یا جسم پر اس قدر مہارت سے فِٹ کیا جاتا ہے کہ اصلی اور جعلی ویڈیو میں فرق کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ اگر فیس بک یا دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر تصاویر عوامی (پبلک) طور پر موجود ہوں تو کوئی بھی انہیں ڈاؤن لوڈ کرکے غلط مقاصد کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

ماہرین نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی تصاویر اور البمز کی پرائیویسی سیٹنگز کا باقاعدگی سے جائزہ لیں اور انہیں فرینڈز یا اونلی می تک محدود رکھیں۔ فیس بک کا پرائیویسی چیک اپ فیچر استعمال کرکے یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ تصاویر، پوسٹس اور ذاتی معلومات کن لوگوں کو نظر آ رہی ہیں۔

اسی طرحپروفائل اینڈ ٹیگنگ سیٹنگز میں جا کر ٹیگ شدہ پوسٹس کی نگرانی اور ریویو کا آپشن فعال کرنا بھی ضروری ہے، تاکہ کوئی تصویر یا پوسٹ صارف کی اجازت کے بغیر عوامی نہ ہو سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کی تصاویر اور ہائی کوالٹی کلوز اپ تصاویر عوامی طور پر شیئر کرنے سے گریز کیا جائے۔ ضرورت پڑنے پر تصاویر پر واٹر مارک یا ہلکا بلر لگانا بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ نامعلوم افراد کی فرینڈ ریکویسٹ قبول نہ کرنے اور وقتاً فوقتاً ریورس امیج سرچ کے ذریعے تصاویر کے استعمال کی جانچ کرنے کا بھی مشورہ دیا گیا ہے۔

اگر کسی شخص کو معلوم ہو کہ اس کی تصاویر استعمال کرکے جعلی ویڈیو بنائی گئی ہے تو فوری طور پر متعلقہ پلیٹ فارم پر رپورٹ کرنے کے ساتھ سائبر کرائم حکام سے بھی رابطہ کرنا چاہیے اور تمام شواہد محفوظ رکھنے چاہییں تاکہ کارروائی میں مدد مل سکے۔