اقتصادی سروے 2025-26: شرح نمو کا ہدف حاصل نہ ہوسکا، زرمبادلہ ذخائر میں ریکارڈ اضافہ

وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اقتصادی سروے 2025-26 پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے عالمی اور مقامی چیلنجز کے باوجود معاشی استحکام کی جانب نمایاں پیش رفت کی ہے اور ملکی معیشت کا حجم بڑھ کر 452 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔

اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے کہا کہ مالی سال کے آغاز میں ملک کو غیر یقینی صورتحال کا سامنا تھا۔ مون سون بارشوں، عالمی معاشی دباؤ، امریکا کی جانب سے مختلف ممالک پر ٹیرف کے نفاذ اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے معیشت پر اثرات مرتب کیے، تاہم حکومت مؤثر پالیسیوں کے ذریعے ان چیلنجز سے نمٹنے میں کامیاب رہی۔

انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال کے دوران معاشی ترقی کی شرح 3.7 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ توقع کی جا رہی تھی کہ یہ شرح 4 فیصد سے زائد رہے گی۔ ان کے مطابق اگر خطے میں جغرافیائی اور عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال پیدا نہ ہوتی تو شرح نمو 4 فیصد سے تجاوز کر سکتی تھی۔

وزیرِ خزانہ نے کہا کہ زرعی شعبے نے 2.89 فیصد ترقی کی جبکہ خدمات کے شعبے کی شرح نمو 4.9 فیصد رہی۔ سیمنٹ سیکٹر میں 10 فیصد، فرٹیلائزر سیکٹر میں 17 فیصد اور پیٹرولیم سیکٹر میں 5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ڈیری اور لائیو اسٹاک کا زرعی معیشت میں تقریباً 60 فیصد حصہ ہے۔

محمد اورنگزیب کے مطابق فی کس سالانہ آمدنی 1751 ڈالر سے بڑھ کر 1901 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اشیاء کی طلب میں اضافہ ہوا ہے اور ڈیجیٹل معیشت اس بہتری میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ مینوفیکچرنگ کے 22 شعبوں میں سے 16 میں بہتری دیکھی گئی جبکہ فوڈ اور ٹیکسٹائل سمیت مختلف شعبوں میں مثبت رجحانات سامنے آئے۔

وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ جولائی تا مارچ کرنٹ اکاؤنٹ 72 ملین ڈالر سرپلس رہا جبکہ مجموعی کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہو کر صرف 252 ملین ڈالر رہ گیا ہے۔ پاکستان کے پاس اس وقت تقریباً 2.75 ماہ کی درآمدات کے لیے درکار زرمبادلہ موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ 29 مئی 2026 تک زرمبادلہ کے ذخائر 17.2 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 49 فیصد زیادہ ہیں، جبکہ جون کے اختتام تک ذخائر کے 18 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔

اقتصادی سروے کے مطابق بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں نے جولائی تا مئی 33.9 ارب ڈالر کی ریکارڈ ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں۔ صرف اپریل 2026 میں ایک ماہ کے دوران 4.3 ارب ڈالر کی تاریخی ترسیلات موصول ہوئیں۔ وزیرِ خزانہ نے اوورسیز پاکستانیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت میں ترسیلاتِ زر بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ آئی ٹی اور ٹیکنالوجی برآمدات جولائی تا اپریل 3.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ فری لانسرز کی برآمدی آمدنی تقریباً 959 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئی، جو ایک ارب ڈالر کے قریب ہے۔ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں جمع رقوم بھی بڑھ کر 12.7 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں۔

وزیرِ خزانہ کے مطابق مالی نظم و ضبط کے نتیجے میں مالیاتی خسارے میں نمایاں کمی آئی ہے جبکہ جولائی تا مارچ پرائمری سرپلس جی ڈی پی کے 3.2 فیصد کے برابر رہا۔ ملک کا مجموعی قرضہ جی ڈی پی کے تناسب سے کم ہو کر 68.5 فیصد رہ گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جولائی تا مئی اوسط مہنگائی کی شرح 6.7 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ گزشتہ دو سال کے دوران افراطِ زر میں مسلسل کمی دیکھی گئی ہے۔ ایف بی آر کے محصولات میں بھی 10.1 فیصد اضافہ ہوا۔

محمد اورنگزیب نے بتایا کہ رواں مالی سال میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 11 نئی کمپنیوں کی لسٹنگ ہوئی جبکہ 39 ہزار سے زائد نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں، جس کے بعد ملک میں رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ نجی شعبے کے قرضوں میں جولائی تا مارچ 934 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ زرعی شعبے کو 2162 ارب روپے کے قرضے فراہم کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے سماجی تحفظ کے پروگراموں کو بھی وسعت دی ہے اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کا بجٹ بڑھا کر 722.5 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پی آئی اے، فرسٹ ویمن بینک اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں سمیت متعدد سرکاری اداروں کی نجکاری کے عمل کو تیز کیا جا رہا ہے جبکہ رائٹ سائزنگ پالیسی کے تحت بعض وزارتوں اور محکموں کی تنظیمِ نو کا عمل بھی جاری ہے۔