ورلڈ کپ 2027 شیڈول طے : 24 سال بعد افریقا ہوگا میزبان، 14ٹیمیں اور 54 میچز

آئی سی سی مینز ون ڈے ورلڈ کپ 2027 کے مجوزہ شیڈول کو حتمی شکل دینے کی جانب اہم پیش رفت ہوئی ہے، جس کے مطابق میگا ایونٹ 4 اکتوبر سے 21 نومبر 2027 تک جنوبی افریقا، زمبابوے اور نمیبیا میں کھیلا جائے گا۔

کرک انفو کے مطابق آئی سی سی کے گزشتہ بورڈ اجلاس میں مینز ون ڈے ورلڈ کپ 2027 کے شیڈول کی اصولی طور پر منظوری دے دی گئی تھی ، جبکہ حتمی منظوری جولائی میں ایڈنبرا میں ہونے والے آئی سی سی کے سالانہ اجلاس (اے جی ایم) میں دیے جانے کا امکان ہے۔

رپورٹس کے مطابق ٹورنامنٹ کے 54 میچز میں سے کم از کم 41 مقابلے جنوبی افریقا کے آٹھ مختلف مقامات پر کھیلے جائیں گے، جبکہ زمبابوے کو 8 سے 10 میچوں کی میزبانی ملنے کا امکان ہے۔ نمیبیا صرف تین میچوں کی میزبانی کرے گا۔

زمبابوے میں اس بار تین وینیوز استعمال کیے جائیں گے جن میں ہرارے اسپورٹس کلب، کوئنز اسپورٹس کلب بولاوایو اور وکٹوریہ فالز شامل ہیں۔ وکٹوریہ فالز میں زیرِ تعمیر فیلے موسی اوآ تونیا انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم رواں سال کے آخر تک مکمل ہونے کی توقع ہے اور اسے آئندہ سال باضابطہ افتتاح سے قبل مقامی کرکٹ کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

یہ ورلڈ کپ 2003 کے بعد افریقی سرزمین پر ہونے والا پہلا 50 اوورز کا عالمی کپ ہوگا۔ اس سے قبل جنوبی افریقا 2007 کے ٹی20 ورلڈ کپ، 2009 کی چیمپئنز ٹرافی اور 2023 ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ کی میزبانی کر چکا ہے، جبکہ زمبابوے اور نمیبیا نے حال ہی میں انڈر-19 ورلڈ کپ کی مشترکہ میزبانی کی تھی۔

ورلڈ کپ 2027 دوبارہ 14 ٹیموں پر مشتمل ہوگا۔ اس سے قبل 2019 اور 2023 کے ایڈیشنز میں صرف 10 ٹیمیں شریک ہوئی تھیں۔ نئی فارمیٹ کے تحت ٹیموں کو سات، سات کے دو گروپس میں تقسیم کیا جائے گا، جہاں سے ہر گروپ کی ٹاپ تین ٹیمیں سپر سکس مرحلے کے لیے کوالیفائی کریں گی۔

میزبان ممالک میں جنوبی افریقہ اور زمبابوے کو بطور فل ممبر خودکار کوالیفکیشن حاصل ہوگی، جبکہ نمیبیا کو ورلڈ کپ میں جگہ بنانے کے لیے کوالیفائنگ مرحلہ عبور کرنا ہوگا۔

یہ ٹورنامنٹ 2027 سے 2031 تک کے نئے فیوچر ٹورز پروگرام (ایف ٹی پی) کا پہلا بڑا آئی سی سی ایونٹ بھی ہوگا۔ آئی سی سی اس نئے ایف ٹی پی کو رواں سال ہانگ کانگ میں ہونے والے اجلاسوں میں حتمی شکل دے گا۔

دریں اثنا، آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے مستقبل پر بھی غور کر رہی ہے۔ امکان ہے کہ جولائی میں ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا تمام 12 فل ممبر ممالک کو ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں شامل کیا جائے یا نہیں۔ فی الحال زمبابوے، آئرلینڈ اور افغانستان اس ایونٹ کا حصہ نہیں ہیں۔