معروف ادیبہ اور دانشور نور الہدیٰ شاہ نے کہا ہے کہ اگر پیپلز پارٹی سندھ کے مفادات کے معاملے پر وفاق کے سامنے سرخرو ہونا چاہتی ہے تو اسے اپنے کارکنوں اور عوام کے پاس واپس جانا ہوگا اور ان ووٹروں کو آزاد کرانا ہوگا جو مقامی بااثر طبقات کے زیرِ اثر ہیں۔
کراچی میں پیپلز پارٹی کے زیرِ اہتمام ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے نور الہدیٰ شاہ نے کہا کہ جمہوریت کی خوبصورتی یہ ہے کہ وہ خود بھی پیپلز پارٹی پر تنقید کرتی ہیں اور پارٹی قیادت اسے برداشت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں سوشل میڈیا پر گالیاں نہیں دی جاتیں اور اختلافِ رائے کو سننے کا رویہ جمہوری اقدار کا حصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ وقت کے ساتھ پیپلز پارٹی نے اپنی صفوں میں اختلافی آوازوں اور نظریاتی کارکنوں کے لیے گنجائش کم کر دی ہے۔ ان کے بقول پارٹی نے سندھ بھر میں اپنے ووٹر کو وڈیروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے اور اب ووٹ کے حصول کے لیے انہی بااثر شخصیات کی جانب رجوع کیا جاتا ہے۔
نور الہدیٰ شاہ نے کہا کہ جب کسی وڈیرے سے ووٹ مانگا جاتا ہے تو وہ اس کے بدلے اپنی قیمت بھی طلب کرتا ہے، اس لیے پارٹی کو دوبارہ براہِ راست عوامی رابطہ مضبوط کرنا ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ سندھ کے مسائل پر پورا صوبہ متحد ہے اور اگر ضرورت پڑی تو پیپلز پارٹی سے الگ کھڑے ہو کر بھی سندھی عوام مزاحمت کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کے مفادات کے معاملے پر بالآخر پیپلز پارٹی کو عوام کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ ان کے مطابق وفاق محض محصولات اور وسائل کے حصول کی خاطر سندھ کو نشانہ بنا رہا ہے جبکہ کراچی کو سندھ سے الگ کرنے جیسے خیالات بھی زیرِ بحث لائے جا رہے ہیں۔
نور الہدیٰ شاہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو ان معاملات پر خدشات لاحق ہو سکتے ہیں لیکن وفاق کی جانب سے دباؤ اور دھمکیوں کا سامنا بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ وہ دھرتی ہے جس نے پاکستان کے قیام میں بنیادی کردار ادا کیا جبکہ بعد میں آنے والے لوگوں نے بھی ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ڈالا۔
انہوں نے کہا کہ عوام سے وفاداری کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنا مقصد نہیں، بلکہ ان کے حقوق کا تحفظ اصل ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کا بڑا حصہ آج بھی صوبائی حکومت کے مکمل انتظامی اختیار میں نہیں، جس کی وجہ سے کئی مسائل جنم لے رہے ہیں۔


