یورپ میں تاریخ کی شدید ترین گرمی کی لہر مشرقی اور وسطی یورپ تک پھیل گئی ہے، جہاں کروڑوں افراد شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں جبکہ عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او ) کے مطابق 21 جون سے اب تک گرمی سے متعلق وجوہات کے باعث 1300 سے زائد اموات ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔
اے ایفپی کے مطابق اتوار 28 جون کو تقریباً 19 کروڑ 10 لاکھ افراد نے 35 ڈگری سینٹی گریڈ سے زائد درجہ حرارت کا سامنا کیا، جبکہ 38 کروڑ سے زیادہ یورپی شہری ایسے علاقوں میں موجود تھے جہاں پارہ 30 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر رہا۔
شدید گرمی نے جرمنی، پولینڈ، جمہوریہ چیک، ہنگری اور دیگر ممالک میں نئے ریکارڈ قائم کر دیے۔ جرمنی میں درجہ حرارت 41.7 ڈگری سینٹی گریڈ، پولینڈ میں 40.5 ڈگری اور جمہوریہ چیک میں 41.1 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جو کئی علاقوں کی تاریخ کا بلند ترین درجہ حرارت ہے۔
ادھر فرانس اور بیلجیئم میں رات کے وقت آنے والے طوفانوں سے وقتی ریلیف ملا، تاہم بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز کے قریب ایک شخص درخت گرنے سے ہلاک ہوگیا جبکہ متعدد علاقوں میں شدید نقصان بھی ہوا۔
عالمی ادارۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم گیبریئسس نے کہا کہ اس وقت 15 کروڑ سے زائد افراد انتہائی خطرناک گرمی میں زندگی گزار رہے ہیں، سیکڑوں افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، اسکول بند ہیں اور بجلی کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہے۔
ماہرین کے عالمی گروپ ورلڈ ویدر اٹریبیوشن کا کہنا ہے کہ جون 2026 کی یہ گرمی کی لہر یورپ کی تاریخ کی شدید ترین لہر ہے اور موسمیاتی تبدیلی کے بغیر اس شدت کی گرمی کا آنا تقریباً ناممکن تھا۔
فرانس کی قومی صحت ایجنسی نے بھی 24 جون کے بعد سے تقریباً ایک ہزار اضافی اموات ریکارڈ ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے، جبکہ زیادہ تر اموات 65 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد میں ہوئی ہیں۔
سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت سمندری حیات، حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی نظام کو بھی شدید متاثر کر رہا ہے، جبکہ ماہرین نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔











