اہم ترین

جنوبی کوریا میں کتوں کے گوشت پر پابندی، ہزاروں کتوں کا انجام معمہ بن گیا

جنوبی کوریا میں کتوں کے گوشت کی صنعت تیزی سے ختم ہو رہی ہے کیونکہ ملک میں کتوں کی افزائش، کاٹنے اور گوشت کی فروخت پر پابندی کا قانون آئندہ سال فروری سے نافذ ہو جائے گا۔ تاہم ایک بڑا سوال اب بھی موجود ہے کہ انسانی خوراک کے لیے پالے جانے والے لاکھوں کتوں کا آخر کیا ہوا؟

اے ایف پی کے مطابق جنوبی کوریا نے جنوری 2024 میں تاریخی قانون منظور کیا تھا جس کے تحت کتوں کی افزائش، کاٹنے اور گوشت کی فروخت پر پابندی عائد کر دی گئی۔ قانون فروری 2027 سے نافذ ہوگا اور خلاف ورزی کرنے والوں کو تین سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں تقریباً 4 لاکھ سے 4 لاکھ 50 ہزار کتے گوشت کی صنعت کے لیے پالے جا رہے تھے، جبکہ اب صرف 20 ہزار کتے فارموں پر باقی رہ گئے ہیں۔

حکومت نے کسانوں کو ہر کتے کے بدلے 6 لاکھ وون (تقریباً 390 امریکی ڈالر) تک معاوضہ دیا تاکہ وہ یہ کاروبار چھوڑ سکیں، لیکن کتوں کو کہاں منتقل کیا گیا یا ان کا کیا انجام ہوا، اس کا کوئی سرکاری ریکارڈ موجود نہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال فروری تک صرف 623 کتوں کو گود لیا گیا جبکہ تقریباً 500 کو پناہ گاہوں میں منتقل کیا گیا۔ جانوروں کے حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ باقی بیشتر کتوں کو غالباً ذبح کر کے کھا لیا گیا۔

جانوروں کے حقوق کے کارکنوں کے مطابق جنوبی کوریا میں روایتی طور پر خوراک کے لیے پالے جانے والے کتوں اور پالتو کتوں میں فرق کیا جاتا تھا۔ خوراک کے لیے پالے جانے والے کتوں کو اکثر بجلی کے جھٹکے دے کر، پھانسی دے کر یا تشدد کے ذریعے مارا جاتا تھا۔

دوسری جانب سابق ڈاگ فارمر جو یونگ بونگ نے پابندی کو اپنی روزی روٹی کے خلاف فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے متبادل روزگار کے لیے مناسب انتظامات نہیں کیے۔

ادھر جانوروں کے حقوق کی تنظیم کارا نے گزشتہ ماہ اسی فارم سے 29 کتوں کو بچایا اور فارم کے مالک کے خلاف جانوروں پر ظلم کے الزام میں قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔

پاکستان