اہم ترین

علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں 3 بیٹوں کی شرکت؛ مجتبٰی خامنہ ای غیر موجود

ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے سلسلے میں تہران میں ایک بڑی اور غیرمعمولی نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جس میں ان کے تین بیٹے مصطفیٰ، میثم اور مسعود خامنہ ای اپنے والد کے تابوت کے سامنے موجود رہے، تاہم ان کے متوقع جانشین سمجھے جانے والے مجتبیٰ خامنہ ای تقریب میں دکھائی نہیں دیے۔

ایرانی سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والی تصاویر میں دیکھا گیا کہ تہران کی امام خمینی گرینڈ مصلیٰ میں رکھے گئے تابوتوں کے قریب خامنہ ای کے تینوں بیٹے نماز جنازہ ادا کر رہے ہیں۔ اس موقع پر ایرانی حکام، اہم سرکاری شخصیات اور بڑی تعداد میں شہری بھی موجود تھے۔ ایرانی قیادت ان آخری رسومات کو محض سوگ کی تقریب کے بجائے قومی یکجہتی، عوامی وفاداری اور ریاستی طاقت کے اظہار کے طور پر پیش کر رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران نے آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین سے قبل ایک ہفتے پر مشتمل بڑے عوامی جنازوں، جلوسوں اور تعزیتی تقریبات کا سلسلہ ترتیب دیا ہے۔ ان تقریبات کے دوران ان کی میت کو عراق کے مقدس شیعہ مقامات پر لے جانے کا بھی منصوبہ بنایا گیا ہے، تاکہ اس پورے عمل کو مذہبی اور سیاسی دونوں حوالوں سے ایک بڑی علامتی حیثیت دی جا سکے۔

ذرائع کے مطابق خامنہ ای کے تابوت کو پہلے ایک روز کے لیے اندرونی ہال میں رکھا گیا، جہاں سینئر ایرانی حکام اور غیر ملکی شخصیات نے تعزیت کی۔ اس کے بعد تابوت کو عوامی دیدار کے لیے مرکزی صحن میں منتقل کیا گیا۔ آیت اللہ خامنہ ای کے ساتھ ان کے خاندان کے دیگر افراد کے تابوت بھی رکھے گئے، جن میں ان کی بیٹی، داماد، بہو اور 14 ماہ کی نواسی بھی شامل تھیں۔

سب سے زیادہ توجہ مجتبیٰ خامنہ ای کی عدم موجودگی نے حاصل کی، جنہیں خامنہ ای کے بعد طاقت کے مرکز کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔ اب تک نہ ان کی کوئی نئی عوامی تصویر جاری کی گئی ہے اور نہ ہی وہ آخری رسومات کی کسی تقریب میں دکھائی دیے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق 28 فروری کو ایران پر ہونے والے امریکی اور اسرائیلی مشترکہ فضائی حملوں میں، جن میں آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے کئی افراد مارے گئے، مجتبیٰ خامنہ ای بھی زخمی ہوئے تھے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کے قریبی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حملے میں ان کے چہرے کو شدید نقصان پہنچا جبکہ ان کی ایک یا دونوں ٹانگیں بھی بری طرح متاثر ہوئیں۔ تاہم ان اطلاعات کی آزادانہ تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔

ایرانی قیادت اس پورے مرحلے کو داخلی سطح پر اتحاد، مزاحمت اور انقلابی تسلسل کے بیانیے کے طور پر استعمال کر رہی ہے، جبکہ عالمی سطح پر یہ رسومات ایران کی مذہبی و سیاسی قیادت کے مستقبل، اقتدار کی منتقلی اور مجتبیٰ خامنہ ای کے کردار سے متعلق کئی نئے سوالات بھی اٹھا رہی ہیں۔

پاکستان