اہم ترین

خلیجی برآمدات بحال ہوتے ہی اوپیک پلس نے پیداوار بڑھانے کا اعلان کر دیا

تیل پیدا کرنے والے ممالک کے اتحاد اوپیک پلس کے سات اہم رکن ممالک نے اگست 2026 سے تیل کی پیداوار میں ایک بار پھر اضافہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ اور آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے باعث خلیجی ممالک کی تیل برآمدات شدید متاثر رہیں اور خطے کی سپلائی چین کئی ماہ تک دباؤ کا شکار رہی۔

اوپیک پلس کے مطابق سعودی عرب، روس، عراق، کویت، قازقستان، الجزائر اور عمان کے وزرا نے اتوار کو ایک ورچوئل اجلاس میں شرکت کی، جس میں متفقہ طور پر یومیہ ایک لاکھ 88 ہزار بیرل پیداوار بڑھانے کی منظوری دی گئی۔ تنظیم کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ یہ نیا پیداواری ایڈجسٹمنٹ اگست 2026 سے نافذ العمل ہوگا۔

یہ فیصلہ اس پس منظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے دوران ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل متاثر ہونے کے بعد خلیجی ممالک کو اپنی تیل پیداوار کم کرنا پڑی تھی۔ آبنائے ہرمز خلیجی تیل برآمدات کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، اور اس میں خلل آنے سے عالمی منڈی میں سپلائی اور قیمتوں دونوں پر اثر پڑا۔

اوپیک کے اعداد و شمار کے مطابق 2026 کی پہلی سہ ماہی سے لے کر مئی تک سعودی عرب، عراق اور کویت کی مجموعی پیداوار میں تقریباً 60 لاکھ بیرل یومیہ کمی ریکارڈ کی گئی۔ یہ وہی تین بڑے ممالک ہیں جو اب نئی کوٹہ پالیسی کے تحت پیداوار بڑھانے والے سات ممالک میں شامل ہیں۔

صورتحال میں موڑ اس وقت آیا جب 17 جون کو تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے، جس کے تحت دونوں فریقوں نے مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے پر اتفاق کیا۔ اس پیش رفت کے بعد خطے میں جہاز رانی کا نظام آہستہ آہستہ بحال ہونا شروع ہوا اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بھی جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب واپس آنے لگیں۔

ماہرین کے مطابق اگرچہ برآمدات بحال ہو رہی ہیں، لیکن پیداوار کو مکمل طور پر پرانی سطح پر لانا فوری عمل نہیں۔ سوئس بینک یو بی ایس کے کموڈیٹی تجزیہ کار جیووانی اسٹونووو کے مطابق اس وقت بھی کئی اوپیک پلس ممالک کی حقیقی پیداوار ان کے طے شدہ اہداف سے نیچے ہے۔ اسی طرح سیکسو بینک کے تجزیہ کار اولے ہینسن کا کہنا ہے کہ بند یا محدود کی گئی تیل پیداوار کو دوبارہ پوری رفتار سے شروع کرنے میں وقت لگتا ہے، اس لیے جولائی میں جزوی بہتری جبکہ اگست میں زیادہ واضح اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔

مارکیٹ کے لیے اگلا بڑا سوال یہ ہے کہ آیا یہ اضافی پیداوار عالمی قیمتوں کو مزید نیچے لے جائے گی یا نہیں۔ توانائی ماہرین کے مطابق 2027 میں عالمی منڈی میں تیل کی اضافی سپلائی کا امکان پہلے ہی زیرِ بحث ہے، اس لیے اگر اوپیک پلس ممالک نے پیداوار بڑھانے کی رفتار برقرار رکھی تو قیمتوں پر نیچے کی جانب دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

اس کے ساتھ اوپیک پلس کو اندرونی سطح پر بھی کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی حالیہ علیحدگی کے بعد اتحاد کی یکجہتی پہلے ہی دباؤ میں ہے، جبکہ عراق جیسے ممالک جنگ کے دوران ہونے والے پیداواری نقصان کا ازالہ کرنے کے لیے زیادہ کوٹہ چاہتے ہیں۔ عراقی وزارتِ تیل اس خواہش کا اظہار کر چکی ہے کہ مستقبل میں بغداد کو زیادہ پیداوار کی اجازت دی جائے تاکہ جنگی دور کے نقصانات پورے کیے جا سکیں۔

تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ فوری طور پر عراق یا دیگر ممالک کے لیے بڑے اضافی کوٹے کی گنجائش شاید نہ ہو، کیونکہ کئی رکن ممالک کی اصل پیداوار اب بھی جنگ سے پہلے والی سطح تک نہیں پہنچی۔ سال کے آخر میں اوپیک پلس کی جانب سے رکن ممالک کی پیداواری صلاحیت اور کوٹہ بیس لائنز کا دوبارہ جائزہ لیا جانا ہے، اور یہی مرحلہ اتحاد کے لیے ایک نیا اختلافی مسئلہ بھی بن سکتا ہے۔

مجموعی طور پر اوپیک پلس کا تازہ فیصلہ اس بات کی علامت ہے کہ تنظیم خطے میں سپلائی کی بحالی کے ساتھ ساتھ مارکیٹ کو بتدریج معمول پر لانا چاہتی ہے، لیکن قیمتوں، طلب، جنگ کے اثرات اور رکن ممالک کے مفادات کے درمیان توازن برقرار رکھنا آنے والے مہینوں میں اس کے لیے ایک بڑا امتحان ہوگا۔

پاکستان