اہم ترین

اسرائیل نے غزہ سے تعلق رکھنے والے 9 فلسطینی قیدی رہا کر دیے

اسرائیلی حکام نے غزہ سے تعلق رکھنے والے 9 فلسطینی قیدیوں کو رہا کر دیا، جنہیں رہائی کے بعد فوری طور پر وسطی غزہ کے شہر دیر البلح میں واقع الاقصیٰ شہداء اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ قیدیوں کی رہائی میں انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس نے سہولت کاری کا کردار ادا کیا۔

رپورٹس کے مطابق رہائی پانے والے تمام افراد کو براہِ راست اسپتال پہنچایا گیا، جہاں طبی ٹیموں نے ان کے فوری معائنے اور صحت کی جانچ کا عمل شروع کر دیا۔ غزہ میں جاری جنگ کے دوران اسرائیلی حراست سے رہا ہونے والے متعدد فلسطینیوں کو ماضی میں بھی اسی اسپتال لایا جاتا رہا ہے، جہاں کئی افراد میں جسمانی تشدد، کمزوری اور صحت کی بگڑتی ہوئی حالت کے آثار سامنے آئے تھے۔

غزہ کی وزارتِ صحت اور مقامی طبی ذرائع کے مطابق، اسرائیلی حراست سے واپس آنے والے بہت سے فلسطینیوں کو شدید جسمانی دباؤ، ناقص طبی سہولتوں اور مبینہ بدسلوکی کے بعد علاج کی ضرورت پیش آئی۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ رہائی پانے والے 9 افراد کی حالت پر بھی خاص توجہ دی جا رہی ہے، تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ دورانِ حراست ان کی جسمانی اور ذہنی کیفیت کس حد تک متاثر ہوئی۔

اسرائیل نے غزہ جنگ کے دوران ہزاروں فلسطینیوں کو حراست میں لیا، جن میں سے بڑی تعداد کو 2002 کے “غیر قانونی جنگجوؤں” کے قانون کے تحت گرفتار کیا گیا۔ اس قانون کے تحت اسرائیلی حکام کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ایسے افراد کو بھی حراست میں لے سکتے ہیں جن پر کسی مخصوص کارروائی میں ملوث ہونے کا براہِ راست الزام ثابت نہ ہو، لیکن حکام یہ دعویٰ کریں کہ ان کا تعلق ایسی تنظیموں سے ہے جنہیں اسرائیل “غیر قانونی” قرار دیتا ہے، جیسے حماس۔

انسانی حقوق کے حلقوں کی جانب سے اس قانون پر طویل عرصے سے تنقید کی جاتی رہی ہے، کیونکہ ناقدین کے مطابق اس کے تحت کسی واضح فردِ جرم یا کھلے عدالتی عمل کے بغیر طویل حراست ممکن بن جاتی ہے۔ غزہ جنگ کے تناظر میں اس قانون کے استعمال نے فلسطینی قیدیوں کی تعداد، ان کے قانونی حقوق اور حراستی مراکز میں ان کے ساتھ برتاؤ کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

فلسطینی حلقے اس رہائی کو محدود مگر اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ غزہ اور دیگر فلسطینی علاقوں سے گرفتار کیے گئے ہزاروں افراد اب بھی اسرائیلی تحویل میں موجود ہیں۔ ایسے میں تازہ رہائی نے ایک بار پھر فلسطینی قیدیوں کی حالت، ان کی قانونی حیثیت اور جنگ کے دوران حراست کے طریقہ کار سے متعلق سنگین سوالات کو نمایاں کر دیا ہے۔

پاکستان