خیبر پختونخوا کے سنٹرل پولیس آفس (سی پی او) نے رواں سال جنوری سے جون تک دہشت گردی اور ڈرون حملوں سے متعلق رپورٹ جاری کر دی، جس کے مطابق صوبے میں ان واقعات کے نتیجے میں مجموعی طور پر 413 افراد جان کی بازی ہار گئے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ چھ ماہ کے دوران دہشت گرد حملوں میں 179 شہری جاں بحق جبکہ 534 زخمی ہوئے۔ اسی عرصے میں 124 پولیس اہلکار شہید اور 176 زخمی ہوئے، جبکہ صوبے کے 6 اضلاع میں دہشت گردی کے مختلف واقعات کے دوران 66 فرنٹیئر کور (ایف سی) اہلکار شہید اور 112 زخمی ہوئے۔
اعداد و شمار کے مطابق بنوں دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ضلع رہا، جہاں 52 پولیس اہلکار شہید اور 64 زخمی ہوئے، جبکہ 43 شہری بھی دہشت گرد حملوں کا نشانہ بنے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شمالی وزیرستان میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران 37 شہری جاں بحق اور 195 زخمی ہوئے۔ باجوڑ میں دہشت گردی کے واقعات میں 16 پولیس اہلکار، 16 شہری اور 18 ایف سی اہلکار جان سے گئے، جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان میں 20 پولیس اہلکار، 18 ایف سی اہلکار اور 15 شہری دہشت گرد حملوں کا نشانہ بنے۔
سنٹرل پولیس آفس کے مطابق یہ اعداد و شمار صوبے میں دہشت گردی سے پیدا ہونے والی سنگین صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں، جبکہ متاثرہ اضلاع میں سیکیورٹی اقدامات مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔










