اہم ترین

بھارت سے نہ ماضی میں مرعوب ہوئے ہیں اور نہ آئندہ ہوں گے: سیکیورٹی حکام

ٹی وی اینکر پرسنز اور میڈیا انفلوئنسرز کے ساتھ ایک اہم نشست میں اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار نے بھارت کی داخلی و خارجی پالیسیوں، خطے کی مجموعی صورتحال، مقبوضہ کشمیر، اقلیتوں کی حالت اور پاکستان کے خلاف مبینہ بھارتی حکمتِ عملی پر تفصیلی گفتگو کی۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق نشست میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بھارت اپنے اندرونی سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے پورے خطے، بالخصوص پاکستان، میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

بریفنگ میں کہا گیا کہ بھارتی قیادت زمینی حقائق کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہے اور ہندوتوا نظریے کے زیر اثر ریاستی پالیسیوں نے بھارت کے داخلی ڈھانچے اور علاقائی طرزِ عمل کو مزید جارحانہ بنا دیا ہے۔ سیکیورٹی حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ بھارت بظاہر خود کو ایک بڑی طاقت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے، مگر اس کے اندرونی حالات بڑھتی ہوئی عدم برداشت، مذہبی شدت پسندی اور سماجی تقسیم کی عکاسی کرتے ہیں۔

بریفنگ میں کہا گیا کہ اکھنڈ بھارت کا تصور ایک غیر حقیقی اور توسیع پسندانہ خواب ہے، جو خطے میں کشیدگی اور بداعتمادی کو ہوا دیتا ہے۔ ہندوتوا نظریے نے بھارت کے اس سیکولر تشخص کو شدید نقصان پہنچایا ہے جسے ماضی میں اس کی ریاستی شناخت کا اہم حصہ سمجھا جاتا تھا۔ بھارت کی سیاسی و سماجی سمت اب مذہبی قوم پرستی کے زیر اثر دکھائی دیتی ہے، جس کے باعث ریاستی اداروں اور خاص طور پر سکیورٹی ڈھانچے پر بھی اس کے اثرات نمایاں ہو رہے ہیں۔

اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار کی بریفنگ کے مطابق بھارتی فوج اور ریاستی بیانیہ اب بی جے پی کی مذہبی اور متشدد سیاست سے الگ دکھائی نہیں دیتے، جبکہ شائننگ انڈیا کا نعرہ ایک تقسیم شدہ معاشرے میں محض ایک نمائشی دعویٰ محسوس ہوتا ہے۔ ذرائع نے کہا کہ بھارت میں آزادیِ اظہار، اختلافی رائے اور آزادیِ صحافت کو ریاستی کنٹرول کے ذریعے محدود کیا جا رہا ہے، جس سے ملک کے جمہوری دعوؤں پر سنجیدہ سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہندوتوا سوچ نے بھارت میں اقلیتوں کے لیے زندگی کو مشکل بنا دیا ہے، اور مسلمانوں سمیت دیگر مذہبی طبقات کو مسلسل دباؤ، امتیازی سلوک اور عدم تحفظ کا سامنا ہے۔ بریفنگ میں یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ بھارتی معاشرے میں بڑھتی ہوئی مذہبی تقسیم مستقبل میں مزید اندرونی انتشار کو جنم دے سکتی ہے۔

مقبوضہ کشمیر کی صورتحال بھی بریفنگ کا اہم حصہ رہی۔ کہا گیا کہ کشمیری عوام دنیا کی سب سے بڑی فوجی چھاؤنیوں میں سے ایک ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جہاں بڑے پیمانے پر فوجی موجودگی کے ذریعے معمولاتِ زندگی کو کنٹرول کیا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی حکام نے الزام عائد کیا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر اور دیگر علاقوں میں آزادی یا مزاحمتی تحریکوں کو دبانے اور ان سے عالمی توجہ ہٹانے کے لیے اکثر پاکستان پر الزامات عائد کرتا ہے اور بعض مواقع پر فالس فلیگ کارروائیوں کا بیانیہ بھی استعمال کرتا ہے۔

بریفنگ میں یہ بھی کہا گیا کہ بھارتی پالیسی ساز ایک مضبوط، خوشحال اور معتدل پاکستان کو اپنے لیے خطرہ تصور کرتے ہیں، اسی لیے بھارتی میڈیا اور سیاست میں پاکستان اور پاکستانی افواج کے خلاف مسلسل بیانیہ سازی کی جاتی ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کے استحکام، ترقی اور علاقائی کردار کو ہندوتوا سوچ کے حامل حلقے اپنے سیاسی و نظریاتی مفادات کے منافی سمجھتے ہیں، جس کے باعث پاکستان مخالف مہمات جاری رکھی جاتی ہیں۔

ذرائع نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی بعض سرکردہ شخصیات بھارتی ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔ تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات باضابطہ طور پر سامنے نہیں لائی گئیں۔

نشست کے اختتام پر سیکیورٹی ذرائع نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ریاستِ پاکستان اور پاکستانی عوام بھارت کے دباؤ یا بیانیے سے نہ ماضی میں مرعوب ہوئے ہیں اور نہ آئندہ ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان اپنے قومی مفادات، داخلی استحکام اور علاقائی امن کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر تیار ہے۔

پاکستان