اہم ترین

اسمارٹ فونز میں اے آئی ایجنٹس کی انٹری۔۔۔ ایپس کا مستقبل خطرے میں

دنیا بھر کی ٹیکنالوجی کمپنیاں اب ایسے جدید ترین اسمارٹ فونز مارکیٹ میں لانے کی دوڑ میں شامل ہو گئی ہیں جو آرٹیفیشل انٹیلیجنس (مصنوعی ذہانت) کے ذریعے صرف ایک عام سی آواز پر کھانا آرڈر کرنے سے لے کر پیغامات لکھنے تک کے تمام کام خودکار طریقے سے انجام دے سکیں گے۔

شنگھائی میں منعقدہ ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کانفرنس کے دوران کم از کم تین چینی کمپنیوں نے اپنے اے آئی ایجنٹ فونز کی نمائش کی، جو مستقبل کے اسمارٹ فونز کی ایک جھلک ہیں۔

‘اے آئی ایجنٹ’ فونز کا بڑے پیمانے پر استعمال موبائل انڈسٹری میں ایک بڑا انقلاب تو لائے گا، لیکن اس سے بڑی بڑی موبائل ایپس کا کنٹرول ان کے ہاتھ سے نکل جائے گا، یہی وجہ ہے کہ بڑی ٹیک کمپنیاں اس پر ناخوش ہیں۔

اسمارٹ فون بنانے والی کمپنی نوبیا نے اپنا نیا فون نیوی ایکس الٹرا متعارف کرایا ہے، جو ٹک ٹاک کی بانی کمپنی ‘بائٹ ڈانس’ کے مقبول ترین چیٹ بوٹ ڈاؤباؤ کی مدد سے چلتا ہے۔ اس سے قبل دسمبر میں جب اس کا ایک ابتدائی ماڈل پیش کیا گیا تھا تو وہ فوری طور پر فروخت ہو گیا تھا، لیکن چند ہی دنوں میں علی بابا، ٹین سینٹ اور جے ڈی ڈاٹ کام جیسی بڑی کمپنیوں نے اس فون کی اپنے پلیٹ فارمز تک رسائی بلاک کر دی، جس سے فون کے اہم فیچرز (جیسے پیمنٹس اور شاپنگ) ناکام ہو گئے۔ اب نیا ماڈل ان ایپس سے زبردستی رسائی لینے کے بجائے ان کے ساتھ شراکت داری کے تحت کام کر رہا ہے۔

اسمارٹ فون بنانے والی مشہور کمپنی آنر نے ایک ایسا ‘روبوٹ فون’ پیش کیا ہے جس کا کیمرہ ایک چھوٹی روبوٹک بازو کی طرح اوپر کی طرف گھوم سکتا ہے۔ یہ فون انسان کے اشاروں کو سمجھ سکتا ہے، میوزک کی دھن پر جھوم سکتا ہے اور علی بابا کے تعاون سے بنے اے آئی ماڈلز پر کام کرتا ہے۔

شنگھائی کے ایک اسٹارٹ اپ اسٹیپ فن نے بھی ایک اے آئی فون پیش کیا ہے جس نے پبلک ٹرانسپورٹ، علی پے اور دیگر سفری ایپس کے ساتھ گہری شراکت داری قائم کی ہے تاکہ صارف کو ایک ہی جگہ تمام سفری اور خریداری کی سہولیات مل سکیں۔

چین سے باہر بھی گوگل جیسی بڑی کمپنیاں اسمارٹ فونز میں اپائنٹمنٹ بک کرنے جیسے جدید اے آئی فیچرز شامل کر رہی ہیں۔ امریکی اسٹارٹ اپ ‘برین ٹیکنالوجیز’ نے جاپان کی سافٹ بینک کے ساتھ مل کر ‘نیچرل اے آئی فون’ متعارف کرایا ہے جو آواز پر پیغامات بھیج سکتا ہے، حالانکہ ابھی اس کی کارکردگی سو فیصد درست نہیں ہے۔

معاشی ماہرین اور ریسرچ اداروں کا کہنا ہے کہ اس دوڑ میں ابھی کوئی واضح فاتح نہیں ہے، لیکن اگلے 5 سے 10 سالوں میں اسمارٹ فونز پر ایپس استعمال کرنے کا روایتی طریقہ بالکل ختم ہو جائے گا۔ یہ ٹیکنالوجی ڈیجیٹل معیشت اور موجودہ کاروباری ماڈلز کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دے گی۔

پاکستان