اومان نے آبنائے ہرمز کے انتظام کے لیے ایران کو ایک نیا علاقائی نظام تجویز کیا ہے، جس کے تحت اس اہم عالمی بحری گزرگاہ کا انتظام مشترکہ طور پر کیا جائے گا اور کسی ایک ملک کو اس پر مکمل اختیار حاصل نہیں ہوگا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اومان کی اس تجویز کو خطے کے متعدد ممالک کی حمایت بھی حاصل ہے۔ ایک خلیجی ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ منصوبے کے تحت ایران آبنائے ہرمز پر تنہا کنٹرول نہیں رکھے گا بلکہ اس کے انتظام میں علاقائی تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔
تجویز میں آبنائے ملاکا کے ماڈل کو مثال بنایا گیا ہے، جہاں اس بحری راستے کو استعمال کرنے والے ممالک اور جہاز رضاکارانہ بنیادوں پر فنڈ میں حصہ ڈالتے ہیں۔ یہ فنڈ بحری جہاز رانی کی سہولت، ماحولیاتی تحفظ، اور تلاش و بچاؤ (سرچ اینڈ ریسکیو) کی سرگرمیوں پر خرچ کیا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا نے گزشتہ ہفتے کے آخر میں ایران کے خلاف فضائی حملوں کی اپنی مہم اچانک معطل کر دی، جس کے بعد سفارتی حل کی امیدیں ایک بار پھر بڑھ گئی ہیں۔
اگر کشیدگی میں کمی آتی ہے تو آبنائے ہرمز سے بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل بحال ہونے کی توقع ہے۔ امریکا۔اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد توانائی کی سپلائی اسی اہم بحری راستے سے گزرتی تھی، جس کی وجہ سے آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی منڈی کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔











