بنگلادیش میں اگست 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی 15 سالہ حکومت کا خاتمہ ہوا تھا۔ مظاہرین کے وزیرِ اعظم ہاؤس پر دھاوے کے بعد وہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے بھارت منتقل ہو گئی تھیں۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق حکومت مخالف احتجاج کے دوران سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں تقریباً 1400 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
نومبر 2025 میں ڈھاکا کی ایک عدالت نے شیخ حسینہ کو انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں سزائے موت سنائی، تاہم انہوں نے اس فیصلے کو قانون کے لبادے میں لپٹا سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کو ای میل کے ذریعے دیے گئے انٹرویو میں 78 سالہ شیخ حسینہ نے کہا کہ انہیں قتل کیا جا سکتا ہے، گرفتار کیا جا سکتا ہے یا جیل بھیجا جا سکتا ہے۔ میں اپنے انجام سے پوری طرح آگاہ ہوں، اس کے باوجود واپس جانا چاہتی ہوں کیونکہ میرے لوگ مجھے بلا رہے ہیں۔
اگست 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی 15 سالہ حکومت کا خاتمہ ہوا تھا۔ مظاہرین کے وزیرِ اعظم ہاؤس پر دھاوے کے بعد وہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے بھارت منتقل ہو گئی تھیں۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق حکومت مخالف احتجاج کے دوران سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں تقریباً 1400 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
نومبر 2025 میں ڈھاکا کی ایک عدالت نے شیخ حسینہ کو انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں سزائے موت سنائی، تاہم انہوں نے اس فیصلے کو قانون کے لبادے میں لپٹا سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
شیخ حسینہ نے واضح کیا کہ انہوں نے خود فیصلہ کیا ہے کہ اپنے ملک واپس جاؤں گی۔ ان کی وطن واپسی کا فیصلہ کسی بیرونی دباؤ یا بھارت کی جانب سے ممکنہ حوالگی (ایکسٹراڈیشن) سے متعلق نہیں۔ وہ بھارت میں عزت اور وقار کے ساتھ مقیم ہیں اور بھارتی حکام نے ان سے حوالگی کے معاملے پر کوئی بات نہیں کی۔
ادھر بنگلا دیش کی موجودہ حکومت کا کہنا ہے کہ اگر شیخ حسینہ واپس آتی ہیں تو انہیں تمام مقدمات میں قانون کے مطابق منصفانہ کارروائی کا موقع فراہم کیا جائے گا۔ تاہم ہیومن رائٹس واچ نے حالیہ رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سابق حکومت کے خلاف جاری کئی مقدمات بین الاقوامی معیار کے مطابق شفاف ٹرائل کے تقاضے پورے نہیں کر رہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے برسوں سے شیخ حسینہ کی حکومت پر سیاسی مخالفین کے قتل، اپوزیشن کو دبانے، عدلیہ پر اثرانداز ہونے اور متنازع انتخابات کرانے جیسے الزامات عائد کیے ہیں، مگر سابق وزیرِ اعظم نے ان تمام الزامات کو سیاسی مقاصد کے تحت گھڑی گئی مہم قرار دیا۔
طلبہ احتجاج کے دوران طاقت کے بے جا استعمال کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کیا اور احتجاج کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق یہ صرف طلبہ کی تحریک نہیں تھی بلکہ حکومت گرانے کے لیے ایک منظم منصوبہ تھا، جس میں تشدد، پروپیگنڈا اور خفیہ ہدایات شامل تھیں۔
بھارت میں حالیہ نوجوانوں کے احتجاج اور وزیرِ تعلیم کے استعفے سے متعلق سوال پر انہوں نے تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا وطن واپسی کے بعد وہ دوبارہ عملی سیاست میں حصہ لیں گی، تو انہوں نے براہِ راست جواب دینے کے بجائے کہا کہ اقتدار میرا مقصد نہیں، عوام کی خدمت میری منزل ہے۔
شیخ حسینہ نے احتجاج کے دوران جان گنوانے والے تمام افراد کے اہلِ خانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا، تاہم انہوں نے کسی قسم کی معافی مانگنے سے گریز کیا۔ ریاستی فیصلوں پر اظہارِ ندامت سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ “ریاستی فیصلے کسی ایک











