ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں 90 رنز کی شکست کے بعد پاکستان ٹیم کی کارکردگی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ میچ کے بعد قومی ٹیسٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ سرفراز احمد نے کہ پاکستان نے کئی مواقع حاصل کیے، لیکن انہیں میچ کے حق میں تبدیل نہیں کیا جا سکا۔
ٹرینیڈاڈ کے برائن لارا اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں ویسٹ انڈیز نے پاکستان کو 211 رنز کا ہدف دیا تھا، تاہم پاکستانی بیٹنگ لائن دوسری اننگز میں صرف 120 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔ فاسٹ بولر جیڈن سیلز نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے پانچ وکٹیں حاصل کیں اور ویسٹ انڈیز کی کامیابی میں مرکزی کردار ادا کیا۔
سرفراز احمد کے مطابق ٹیم کو اپنی غلطیوں سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیسٹ کرکٹ میں چھوٹے چھوٹے لمحات فیصلہ کن ثابت ہوتے ہیں اور پاکستان ان اہم لمحات میں بہتر کارکردگی دکھانے میں ناکام رہا۔
انہوں نے خاص طور پر بیٹنگ کے شعبے میں بہتری کی ضرورت پر زور دیا، جہاں ویسٹ انڈیز کے فاسٹ بولرز نے مسلسل دباؤ برقرار رکھا۔ جیڈن سیلز اور جسٹن گریوز کی عمدہ بولنگ نے پاکستانی بیٹنگ کو مشکلات میں ڈال دیا۔
میچ میں پاکستان کے لیے شان مسعود نے پہلی اننگز میں شاندار سنچری اسکور کی، لیکن انگلی کی انجری کے باعث دوسری اننگز میں وہ اپنی معمول کی نمبر 3 پوزیشن پر بیٹنگ نہیں کرسکے، جس سے ٹیم کا توازن متاثر ہوا۔ کپتان بابر اعظم نے بھی شکست کے بعد شان مسعود کی انجری کو ایک اہم نقصان قرار دیا۔
سرفراز احمد نے آئندہ میچ میں واپسی کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم کو اپنی خامیوں پر کام کرنا ہوگا اور اگلے ٹیسٹ میں بہتر تیاری کے ساتھ میدان میں اترنا ہوگا۔











