پیرس: یورپی فٹبال کی گورننگ باڈی یوئیفا (یوئیفا) نے فیفا کے مجوزہ نجی سرمایہ کاری منصوبے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ منصوبہ واپس نہ لیا گیا تو یورپ کی کوئی بھی قومی ٹیم فیفا کے کسی بھی ٹورنامنٹ، بشمول فیفا ورلڈ کپ، میں شرکت نہیں کرے گی۔
یوئیفا نے اپنے بیان میں کہا کہ جب تک فیفا اس منصوبے کو مکمل طور پر ترک نہیں کرتا اور مستقبل میں ورلڈ کپ یا دیگر مقابلوں کی ملکیت یا انتظام میں نجی سرمایہ کاروں کو شامل نہ کرنے کی واضح اور پابند یقین دہانی نہیں کراتا، یورپی ممالک فیفا مقابلوں کا بائیکاٹ کریں گے۔
بیان میں کہا گیا کہ ورلڈ کپ کوئی سرمایہ کاری کی مصنوعات نہیں بلکہ دنیا بھر کے فٹبال کا مشترکہ ورثہ ہے، جسے فروخت نہیں کیا جا سکتا۔
فیفا نے حال ہی میں فیفا فارورڈ انٹرپرائز کے نام سے ایک نئی تجارتی ذیلی کمپنی بنانے کی تجویز پیش کی ہے، جو ورلڈ کپ اور کلب ورلڈ کپ جیسے بڑے مقابلوں کے تجارتی معاملات سنبھالے گی۔
اس منصوبے کے تحت نجی سرمایہ کار اس کمپنی میں اقلیتی حصص خرید سکیں گے۔ فیفا کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے تقریباً 4.2 ارب امریکی ڈالر جمع کیے جا سکتے ہیں، جبکہ کمپنی کی مجموعی مالیت 20 ارب ڈالر لگائی گئی ہے۔
فیفا کے مطابق اگر منصوبہ منظور ہو جاتا ہے تو اس کی 211 رکن فیڈریشنز میں سے ہر ایک کو 2027 کے آغاز میں 2 کروڑ امریکی ڈالر کی ایک مرتبہ ادائیگی کی جائے گی، جبکہ 2027 سے 2030 کے مالیاتی دورانیے میں سالانہ ترقیاتی فنڈ بھی 80 لاکھ ڈالر سے بڑھا کر 2 کروڑ ڈالر کر دیا جائے گا۔
فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو نے اس منصوبے کو عالمی فٹبال کی ترقی کے لیے ایک “سنہری موقع” قرار دیا ہے۔
یوئیفا کے تحفظات
یوئیفا نے مؤقف اختیار کیا کہ فٹبال کا مستقبل ایسے سرمایہ کاروں کے ہاتھ میں نہیں دیا جا سکتا جن کی اولین ترجیح مالی منافع ہو۔ قومی فیڈریشنز، لیگز، کلبوں، کھلاڑیوں اور شائقین کے مفادات کو سرمایہ کاروں کے منافع پر قربان نہیں کیا جا سکتا۔
یوئیفا نے مزید کہا کہ اس قدر اہم منصوبہ متعلقہ فریقوں سے بامعنی مشاورت کے بغیر تیار کیا گیا، جو عالمی فٹبال کی قیادت اور نظم و نسق کی ناکامی ہے۔
عالمی سطح پر ردعمل
فیفا کی اس تجویز پر صرف یوئیفا ہی نہیں بلکہ کئی یورپی فٹبال فیڈریشنز اور یورپی یونین کے حکام نے بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے کھیل کی حد سے زیادہ تجارتی حیثیت بڑھے گی اور مفادات کے ٹکراؤ کے خدشات پیدا ہوں گے۔
ادھر کونکاکاف اور ایشین فٹبال کنفیڈریشن (اے ایف سی) نے بھی اس بات پر تشویش ظاہر کی ہے کہ فیفا نے اپنی 211 رکن تنظیموں سے مکمل مشاورت سے قبل ہی اس منصوبے کو عوام کے سامنے پیش کر دیا، جبکہ افریقی فٹبال کنفیڈریشن (سی ا اے ایف) نے اپنے ارکان سے اس تجویز کا تفصیلی جائزہ لینے کی اپیل کی ہے۔
یوئیفا نے اپنے بیان کے اختتام پر واضح کیا کہ ورلڈ کپ فٹبال کی ملکیت ہے، یہ ہمیشہ فٹبال ہی کا رہے گا، اور جب تک یورپ کی آواز موجود ہے، اسے فروخت نہیں ہونے دیا جائے گا۔











