اسلام آباد: اگر آپ کے اسمارٹ فون کی بیٹری معمول سے زیادہ تیزی سے ختم ہو رہی ہے تو اس کی ایک وجہ بعض ایسی ایپس بھی ہو سکتی ہیں جو پس منظر (بیک گراؤنڈ) میں مسلسل کام کرتی رہتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق گوگل کی چند مقبول ایپس زیادہ استعمال یا مخصوص فیچرز کی وجہ سے بیٹری پر اضافی بوجھ ڈال سکتی ہیں۔
گوگل کروم
اگر گوگل کروم میں ایک ساتھ بہت زیادہ ٹیبز کھلی ہوں تو یہ فون کی ریم اور پروسیسر پر دباؤ بڑھا دیتا ہے، جس سے بیٹری زیادہ خرچ ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ آٹو ریفریش، اشتہارات اور بیک گراؤنڈ سرگرمیاں بھی بیٹری کے استعمال میں اضافہ کرتی ہیں۔ غیر ضروری ٹیبز بند رکھنے سے بیٹری کی بچت کی جا سکتی ہے۔
یوٹیوب
لمبے وقت تک ایچ ڈی یا 4 کے ویڈیوز دیکھنے سے بیٹری تیزی سے ختم ہوتی ہے کیونکہ ہائی ریزولوشن ویڈیوز زیادہ پروسیسنگ پاور استعمال کرتی ہیں۔ بہتر بیٹری بیک اپ کے لیے ویڈیو کوالٹی آٹو یا 720 پی پر رکھنا مفید ہو سکتا ہے۔
جی میل
جی میل ایپ نئے ای میلز کی جانچ کے لیے مسلسل بیک گراؤنڈ میں ڈیٹا ہم آہنگ (سنک) کرتی رہتی ہے۔ اگر ایک سے زیادہ ای میل اکاؤنٹس منسلک ہوں تو بیٹری کا استعمال مزید بڑھ سکتا ہے۔ ضرورت کے مطابق سنک کی سیٹنگز تبدیل کرنا بہتر رہتا ہے۔
گوگل میپس
گوگل میپس استعمال کرتے وقت جی پی ایس، انٹرنیٹ اور اسکرین بیک وقت فعال رہتے ہیں، جس سے بیٹری تیزی سے خرچ ہوتی ہے۔ اگر لوکیشن سروس ہر وقت آن ہو تو ایپ پس منظر میں بھی توانائی استعمال کرتی رہتی ہے، اس لیے ضرورت نہ ہونے پر جی پی ایس بند رکھنا بہتر ہے۔
گوگل ہوم
گوگل ہوم ایپ اسمارٹ اسپیکرز، اسمارٹ لائٹس اور دیگر اسمارٹ ڈیوائسز سے مسلسل منسلک رہتی ہے، جس کے باعث بیٹری زیادہ استعمال ہو سکتی ہے۔ اگر ایپ استعمال نہ کر رہے ہوں تو بلیو ٹوتھ اور لوکیشن جیسی سہولیات بند رکھنے سے بیٹری کی بچت ممکن ہے۔
بیٹری کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے تجاویز
ماہرین کا کہنا ہے کہ فون کی بیٹری یوزیج رپورٹ وقتاً فوقتاً چیک کریں اور جن ایپس کا استعمال کم ہو، ان کی بیک گراؤنڈ سرگرمی محدود کر دیں۔ اس کے علاوہ اسکرین کی برائٹنس آٹو یا کم سطح پر رکھیں، جبکہ جی پی ایس، بلیو ٹوتھ اور وائی فائی صرف ضرورت کے وقت استعمال کریں۔ تمام ایپس کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کرتے رہیں کیونکہ نئے اپ ڈیٹس میں اکثر بیٹری کی بہتر کارکردگی اور دیگر اصلاحات شامل ہوتی ہیں۔











