اہم ترین

اپان نے چین، شمالی کوریا اور روس کو خطرہ سمجھ لیا، فوجی صلاحیتوں میں فوری اضافے کی تیاریاں

جاپان کے وزیر دفاع شنجیرو کوئزومی نے کہا ہے کہ ملک کو بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال کے پیش نظر ہنگامی خطرات بھانپتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔

جاپانی وزارت دفاع کی جانب سے سالانہ دفاعی وائٹ پیپر کے دیباچے میں شنجیرو کوئزومی نے کہا کہ ایشیا بحرالکاہل کے خطے میں چین اور شمالی کوریا اپنی فوجی طاقت میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں، جبکہ چین اور روس، نیز روس اور شمالی کوریا کے درمیان دفاعی تعاون بھی مزید مضبوط ہو رہا ہے۔

دفاعی رپورٹ کے مطابق چین نے جاپان کے اطراف اپنی عسکری سرگرمیاں بڑھا دی ہیں اور 2025 کے دوران چینی طیارہ بردار جہازوں کی نقل و حرکت سمیت کئی ایسے واقعات پیش آئے جن میں چینی فوجی طیارے غیرمعمولی طور پر جاپانی طیاروں کے قریب آئے۔

رپورٹ کے مطابق مارچ 2026 تک کے ایک سال میں جاپانی فضائیہ نے 595 مرتبہ ہنگامی پروازیں کیں، جن میں سے 366 چینی اور 214 روسی طیاروں کی سرگرمیوں کے ردعمل میں تھیں۔

جاپان پہلے ہی اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ، بیرونی جزیروں پر میزائل نظام کی تنصیب، جوابی حملے کی صلاحیت حاصل کرنے اور اسلحے کی برآمد سے متعلق قوانین میں نرمی جیسے اقدامات کر چکا ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ جاپان امریکا کے ساتھ اپنے دفاعی اتحاد کو مزید مضبوط بنانے کے علاوہ فلپائن، آسٹریلیا اور جنوبی کوریا کے ساتھ بھی سکیورٹی تعاون کو وسعت دے رہا ہے تاکہ “آزاد اور کھلے انڈو پیسیفک” کے وژن کو فروغ دیا جا سکے۔

دوسری جانب چین نے جاپان کی دفاعی پالیسی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے “نئی عسکریت پسندی” کی جانب واپسی قرار دیا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے تعلقات گزشتہ برس تائیوان سے متعلق بیانات کے بعد مزید کشیدہ ہوئے ہیں۔

پاکستان