بنگلا دیش کے 51 سالہ بحری کپتان محمد شفیق الاسلام نے خلیج میں جنگ کے دوران 115 دن تک سمندر میں محصور رہنے کی داستان بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس عرصے میں ان کی سب سے بڑی ذمہ داری اپنے 31 ساتھیوں، 4 کروڑ ڈالر مالیت کے جہاز اور 82 لاکھ ڈالر کے سامان کو محفوظ رکھنا تھی۔
اے ایف پی کے مطابق شفیق الاسلام مال بردار جہاز بنگلار جوئے جاترا کے کپتان تھے، جو فروری میں امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں سے کچھ دن پہلے خلیج پہنچا تھا۔ جنگ شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھ گئی، تجارتی جہازوں کی آمدورفت شدید متاثر ہوئی اور ان کا جہاز تقریباً چار ماہ تک وہیں پھنسا رہا۔
کپتان کے مطابق 28 فروری کی صبح انہوں نے اپنی آنکھوں سے صرف 200 میٹر کے فاصلے پر ایک تیل ذخیرہ کرنے کی تنصیب پر میزائل حملہ دیکھا، جس کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔ اس دوران مسلسل دھماکوں کے باعث جہاز کا نیوی گیشن سسٹم بھی متاثر ہوا اور انہیں کئی برس بعد دستی طریقے سے جہاز چلانا پڑا۔
انہوں نے بتایا کہ متعدد بار آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کی گئی، مگر ایرانی حکام نے اجازت نہیں دی۔ طویل انتظار کے دوران جہاز پر پینے کے پانی اور خوراک کی قلت پیدا ہو گئی، جس کے باعث راشن بندی کرنا پڑی۔
کپتان نے کہا کہ عملے کے کئی نوجوان ارکان شدید خوف کا شکار تھے۔ کچھ افراد پورا دن قرآن پاک کی تلاوت کرتے رہے جبکہ کچھ نے ٹک ٹاک دیکھ کر وقت گزارا۔ ان کی کوشش تھی کہ ہر حال میں عملے کا حوصلہ بلند رکھا جائے۔
اپریل میں جنگ بندی کے اعلان کے باوجود فوری اجازت نہ ملی، تاہم 23 جون کو آخرکار جہاز کو آبنائے ہرمز عبور کرنے کی اجازت مل گئی۔ کپتان کے مطابق جیسے ہی جہاز خطرناک راستے سے باہر نکلا، پورے عملے نے سکون کا سانس لیا۔
محمد شفیق الاسلام نے بتایا کہ ان کی اہلیہ اور بچے اس پورے عرصے میں شدید پریشانی کا شکار رہے اور ہر واپسی پر انہیں سمندر چھوڑنے کا مشورہ دیتے ہیں، مگر وہ اب بھی کئی برس تک بحری سفر جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔











