اہم ترین

سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان میں دفاعی معاہدہ

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال، یمن میں دوبارہ بھڑکتی کشیدگی اور امریکا و ایران کے درمیان تنازع کے تناظر میں سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے جمعہ کو ایک اہم مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیے، جس کا مقصد علاقائی سلامتی، دفاعی تعاون اور مشترکہ دفاعی حکمت عملی کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

تینوں ممالک کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں بتایا گیا کہ “مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ” کے تحت باہمی سلامتی، امن اور خطے کے استحکام کے لیے تعاون کو نئی جہت دی جائے گی۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق معاہدے کی ایک اہم شق یہ ہے کہ کسی ایک رکن ملک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، تاکہ مشترکہ دفاعی صلاحیت اور جارحیت کے خلاف مؤثر روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔

یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے باعث خلیجی ممالک کی سلامتی، آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر میں جہاز رانی، اور یمن میں حوثی حملوں نے سیکیورٹی خدشات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں حوثیوں نے سعودی عرب پر حملوں اور بحری ناکہ بندی کی دھمکیوں میں بھی شدت پیدا کی ہے۔

سیاسی و دفاعی ماہرین کے مطابق سعودی عرب حالیہ برسوں میں اپنی سلامتی کے لیے صرف ایک اتحادی پر انحصار کرنے کے بجائے متعدد علاقائی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے رہا ہے۔ ان کے نزدیک ترکی اور پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون سعودی عرب کی نئی علاقائی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے، جبکہ ترکی اور پاکستان کو بھی اس شراکت داری سے سفارتی اثرورسوخ اور دفاعی و اقتصادی تعاون کے نئے مواقع حاصل ہوں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ترکی اور پاکستان کی ایران کے ساتھ مشترکہ سرحدیں ہونے کے باعث یہ دونوں ممالک تہران کے ساتھ تعلقات اور علاقائی سفارت کاری میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، جس سے خطے میں طاقت کے توازن پر بھی اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔

معاہدے پر دستخط کی تقریب میں ترک صدر رجب طیب اردوان نے مکہ میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی، جبکہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی اس موقع پر سعودی عرب میں موجود تھے۔

دفاعی معاہدہ ایسے وقت میں طے پایا ہے جب سعودی عرب اور ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے درمیان کئی برس سے جاری جنگ بندی حالیہ دنوں میں کمزور پڑ چکی ہے۔ تازہ حملوں میں حوثیوں نے یمنی حکومتی فورسز کو بھی بھاری جانی نقصان پہنچایا، جس سے یمن میں ایک بار پھر بڑے پیمانے پر تصادم کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

مبصرین کے مطابق سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان یہ دفاعی شراکت داری نہ صرف تینوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم سنگ میل ہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی جغرافیائی اور سیکیورٹی صورتحال پر بھی دور رس اثرات مرتب کر سکتی

پاکستان