ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اہم بحری گزرگاہ ایرانی تھی، ایرانی ہے اور ایرانی ہی رہے گی۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو بند یا کھولنے کا اختیار صرف ایران کے پاس ہوگا۔
ٹرمپ نے نیویارک میں ایک سیاسی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کو شکست دینے کے بعد وہ جلد آبنائے ہرمز کو امریکا کا علاقہ قرار دیں گے۔ تاہم بعد ازاں وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے امریکی میڈیا کو بتایا کہ صدر کا بیان مذاق تھا۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار ہے۔ متحدہ عرب امارات کی سرکاری آئل کمپنی اے ڈی این او سی نے ہفتے کو بتایا کہ اس کے ایک بحری جہاز پر گزشتہ رات حملہ کیا گیا۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی آمدورفت محدود کیے جانے کے باعث عالمی توانائی کی سپلائی اور تیل و ایل این جی کی قیمتوں پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے۔ جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل اور ایل این جی برآمدات اسی راستے سے گزرتی تھیں۔
تہران نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے جنگ کے خاتمے، پابندیوں کے خاتمے، منجمد اثاثوں کی واپسی اور جنگی نقصانات کے ازالے سمیت متعدد شرائط بھی پیش کی ہیں۔











