کافی کا استعمال بریسٹ کینسر سے متاثرہ خواتین میں موت اور بیماری کی دوبارہ واپسی کے خطرے کو کم کرنے سے منسلک پایا گیا ہے، تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اسے حتمی طبی ثبوت نہیں سمجھا جاسکتا۔
برٹش جنرل آف نیوٹریشن نامی جریدے میں شائع رپورٹ کے مطابق نئی تحقیق میں سائنس دانوں نے ایسے قدرتی نباتاتی مرکبات کا جائزہ لیا جو مختلف غذاؤں میں پائے جاتے ہیں۔ ان میں خاص طور پر پولی فینولز، فینولک ایسڈز اور لیگنانز شامل ہیں، جن میں اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات پائی جاتی ہیں۔
تحقیق میں بریسٹ کینسر کی تشخیص والی 95 خواتین کو اوسطاً ساڑھے 11 سال تک مانیٹر کیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ خوراک میں مجموعی پولی فینولز، فینولک ایسڈز اور لیگنانز کی زیادہ مقدار بریسٹ کینسر سے ہونے والی اموات کے کم خطرے سے منسلک تھی۔ فینولک ایسڈز کا زیادہ استعمال بیماری کے دوبارہ ہونے اور مجموعی اموات کے کم خطرے سے بھی وابستہ پایا گیا۔
تحقیق کے مطابق مطالعے میں شامل خواتین کی خوراک میں کافی پولی فینولز، فینولک ایسڈز اور لیگنانز کا سب سے بڑا ذریعہ تھی، اسی وجہ سے کافی اور بریسٹ کینسر کے درمیان ممکنہ تعلق نے خاص توجہ حاصل کی ہے۔
ماہرین کے مطابق پولی فینولز بیر، کوکو، کافی، رنگ برنگی سبزیوں، اضافی کنواری زیتون کے تیل، دالوں، گری دار میووں، بیجوں اور مختلف جڑی بوٹیوں و مصالحوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔ یہ مرکبات جسم میں آکسیڈیٹو اسٹریس، سوزش، انسولین حساسیت اور مدافعتی نظام سے متعلق مختلف حیاتیاتی عمل پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔
تاہم ماہرین نے واضح کیا ہے کہ اس تحقیق سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کافی پینے سے بریسٹ کینسر کی موت یا دوبارہ نمودار ہونے کا خطرہ لازماً کم ہوجاتا ہے۔ تحقیق محدود تعداد میں خواتین پر کی گئی اور یہ مشاہداتی نوعیت کی تھی، اس لیے اس کے نتائج کو حتمی قرار دینے کے لیے بڑے اور مختلف آبادیوں پر مزید تحقیق ضروری ہے۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ پولی فینولز حاصل کرنے کے لیے کسی ایک ’سپر فوڈ‘ یا سپلیمنٹ پر انحصار کرنے کے بجائے متوازن غذا میں مختلف پھل، سبزیاں، دالیں، گری دار میوے، بیج، چائے اور کافی کو مناسب مقدار میں شامل کیا جائے۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق 2024 میں دنیا بھر میں تقریباً 24 لاکھ خواتین میں بریسٹ کینسر کی تشخیص ہوئی جبکہ تقریباً 6 لاکھ 94 ہزار خواتین اس بیماری کے باعث جان سے گئیں۔
ماہرین کے مطابق بریسٹ کینسر کے مریضوں کے لیے صحت مند طرزِ زندگی معاون ثابت ہوسکتا ہے، تاہم خوراک یا کافی کو کسی بھی صورت ڈاکٹر کی تجویز کردہ تشخیص اور علاج کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔











