اہم ترین

ٹرمپ نے شمالی کوریا سے بہتر تعلقات کے لئے امریکا، جنوبی کوریا جنگی مشقیں محدود کردیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی کوریا کے ساتھ ہونے والی مشترکہ فوجی مشقوں کو نمایاں طور پر محدود کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے ساتھ ان کے اچھے تعلقات کے باعث وہ ایسی مشقوں سے خوش نہیں جو پیانگ یانگ کے خلاف ممکنہ حملے کی تیاری کا تاثر دیتی ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سالانہ الچی فریڈم شیلڈ مشقوں کے آغاز سے چند گھنٹے قبل سوشل میڈیا پر بتایا کہ انہوں نے امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو مشقیں ’’نمایاں طور پر کم‘‘ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

امریکی صدر کے مطابق مشقیں مہنگی ہیں اور ان کے اخراجات کا بڑا حصہ امریکا برداشت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مشقیں ایک ایسے ملک کو ’’نامناسب اور جارحانہ‘‘ پیغام دیتی ہیں جو ان کے بقول ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد سے امریکا کے لیے خطرہ نہیں بنا اور احترام کا مظاہرہ کرتا رہا ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ مشقیں منسوخ کرنے کے لیے وقت گزر چکا تھا، اس لیے انہیں محدود کرنے کا حکم دیا گیا۔

دوسری جانب جنوبی کوریا نے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ فوجی مشقوں کے معاملے پر قریبی رابطہ برقرار ہے۔ جنوبی کوریا کی وزارت دفاع کے مطابق مشترکہ فوجی مشقیں پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق شروع ہو گئی ہیں۔

گیارہ روزہ مشقوں میں تقریباً 18 ہزار جنوبی کوریائی اور امریکی فوجی حصہ لے رہے ہیں۔ مشقوں میں ڈرون جنگ، جی پی ایس میں خلل اور سائبر حملوں سمیت جدید جنگی صورتحال پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

امریکی اور جنوبی کوریائی افواج کے ترجمان کے مطابق مشقوں میں روس اور یوکرین کی جنگ میں تعیناتی کے باعث جنگی تجربہ حاصل کرنے والی شمالی کوریا کی افواج کے خلاف ممکنہ جنگی صورتحال کی نقل بھی شامل ہے۔

شمالی کوریا طویل عرصے سے ان مشقوں کو اپنے خلاف حملے کی تیاری قرار دیتا آیا ہے۔ مشقوں کے آغاز سے قبل پیانگ یانگ نے بیلسٹک میزائل کا تجربہ بھی کیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ وہ ’’مزاحمت کی نئی سطح‘‘ اختیار کر سکتا ہے۔ تاہم ٹرمپ کے حالیہ بیان پر شمالی کوریا کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر نے کہا ہے کہ اسے امید ہے کہ ٹرمپ اور کم جونگ اُن کے درمیان ذاتی تعلقات دونوں ممالک کے درمیان بامعنی مذاکرات کی بحالی کا باعث بن سکتے ہیں۔

امریکا جنوبی کوریا میں شمالی کوریا کے خلاف دفاع کے لیے تقریباً 28,500 فوجی تعینات رکھتا ہے۔ دونوں ممالک کا دفاعی اتحاد 1950 سے 1953 کی کوریائی جنگ کے بعد قائم ہونے والے جنگ بندی کے نظام کا اہم حصہ ہے۔

ادھر شمالی کوریا نے گزشتہ برسوں کے دوران اپنے جوہری اور میزائل پروگرام میں مزید توسیع کی ہے، جبکہ روس کے ساتھ اس کے فوجی تعلقات بھی مضبوط ہوئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پیانگ یانگ نے یوکرین جنگ میں روس کو فوجی مدد فراہم کی ہے، جس کے بدلے اسے مالی، غذائی، توانائی اور فوجی ٹیکنالوجی سے متعلق معاونت مل رہی ہے۔

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے جنوبی کوریا کو ’’سب سے زیادہ دشمن ریاست‘‘ قرار دے رکھا ہے، جبکہ جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد شمالی کوریا کے ساتھ غیر مشروط مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔

پاکستان