لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ٹیسٹ اوپنر امام الحق کو لندن سے پہلی دستیاب فلائٹ کے ذریعے پاکستان واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ ان کی حالیہ پنڈلی کی انجری کی اعلیٰ سطح پر مکمل تحقیقات کرانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امام الحق نے لارڈز ٹیسٹ کے پہلے روز پنڈلی میں تکلیف کی شکایت کی تھی۔ انجری کے باعث وہ پاکستان کی پہلی اننگز کے بعد دوسری اننگز میں بھی بیٹنگ کے لیے میدان میں نہیں اترے۔تاہم امام الحق کی انجری کے حوالے سے میڈیا اور کرکٹ حلقوں میں مختلف قیاس آرائیاں سامنے آنے کے بعد پی سی بی نے معاملے کا مکمل جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ بعض سابق کرکٹرز کی جانب سے بھی امام الحق کی انجری کو جعلی قرار دیتے ہوئے سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
پی سی بی کی جانب سے یہ جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ لارڈز ٹیسٹ کے دوران امام الحق کو درپیش پنڈلی کی تکلیف کی نوعیت کیا تھی، اس کی میڈیکل رپورٹس کیا کہتی ہیں اور انجری کے حوالے سے سامنے آنے والے دعووں میں کتنی صداقت ہے۔
پی سی بی امام الحق کی حالیہ انجری کے ساتھ ماضی کے ایک متنازع واقعے کا بھی جائزہ لے گا۔
مارچ 2025 میں نیوزی لینڈ کے دورے کے دوران امام الحق کی انجری کے معاملے پر پی سی بی نے تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کی تھی۔28 مارچ 2025 کو انڈور نیٹ سیشن کے دوران گیند امام الحق کے دائیں پاؤں کے انگوٹھے پر لگی تھی۔ ایکسرے میں انگوٹھے میں فریکچر یا ہڈی کے اپنی جگہ سے ہٹنے کے شواہد نہیں ملے تھے۔
میڈیکل ٹیم کی ہدایت کے باوجود امام الحق مبینہ طور پر افطار کے لیے تقریباً 500 میٹر پیدل گئے، جس کے بعد انہوں نے انگوٹھے میں شدید درد اور اس کے سیاہ پڑنے کی شکایت کی۔ٹیم ڈاکٹر نے مخصوص کیمیکل والے پیپر سے امام الحق کا انگوٹھا صاف کیا تو مبینہ طور پر سیاہ نشان صاف ہوگیا۔
پی سی بی کی مارچ 2025 کی انکوائری کمیٹی کے مطابق انگوٹھے سے صاف ہونے والا سیاہ مادہ قدرتی خون کا نشان نہیں بلکہ سیاہی یا مارکر تھا۔ کمیٹی نے نیوزی لینڈ کے دورے کے دوران امام الحق کو مبینہ طور پر جعلی انجری ظاہر کرنے کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔
ماضی کے اس واقعے کے باعث پی سی بی کے بعض حکام پہلے ہی امام الحق کی انجریز کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ اب لارڈز ٹیسٹ میں سامنے آنے والی پنڈلی کی تکلیف کے بعد یہ معاملہ ایک بار پھر بورڈ کی سطح پر زیرِ بحث آگیا ہے۔


